afzal-shah-bacha-1 277

تحصیل بریکوٹ اور پولیس کی من مانیاں

تحصیل بریکوٹ ضلع سوات کا گیٹ وے ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی تحصیل ہے جو پانچ یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کے باشندے تعلیم یافتہ، شریف اور امن پسند ہیں۔ وہ قانون کا احترام کرنے میں پورے ضلع میں مشہور ہیں۔ ضلع سوات کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں کے لوگ بھی دہشت گردی، سیلاب اور دوسری آفات کا شکار رہے ہیں۔ دہشت گردی کے شکار پہلے پولیس آفیسر شہید تاج ملوک کا تعلق بھی غالباً اس علاقے ہی سے تھا۔گذشتہ کچھ عرصہ سے تحصیلِ بریکوٹ قدرتی آفات کے علاوہ انسانی آفات سے بھی گزر رہا ہے۔ یہاں پر منشیات فروشی عام ہے جس کی وجہ سے نوجوان نسل تباہی سے دوچار ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ مقامی پولیس کی ناک کے نیچے نہایت دیدہ دلیری سے ہو رہا ہے۔ یہاں ہر قسم کی منشیات آسانی سے دست یاب ہیں۔ اگرچہ لنڈاکے اور کڑاکڑ چیک پوسٹوں پر سخت چیکنگ ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود منشیات فراہم کرنے والے لوگ یہ انسانیت سوز مواد ان علاقوں میں پہنچا دیتے ہیں۔تحصیل بریکوٹ کا مین کاروباری مرکز ”بریکوٹ“ ہے۔ یہاں پر تعینات چوکی انچارج ایک طویل عرصہ سے یہاں اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں۔ اگر کبھی ان کا تبادلہ دوسری جگہ ہوجاتا ہے، تو ایک مختصر وقت کے بعد وہ یہاں دوبارہ تعینات ہوجاتے ہیں۔ اس اَمر کی تصدیق ان کے ریکارڈ سے بہ خوبی کی جاسکتی ہے۔ یہ افسر کبھی کبھار افسرانِ بالا کو اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے ٹوپی ڈراما بھی رچا دیتے ہیں۔ عام طور پر وہ ملزمان کے خلاف انتہائی کمزور اور واقعہ کے خلاف مقدمات بناتے ہیں۔ اس وجہ سے ملزمان عدلیہ میں جاکر بری ہوجاتے ہیں۔ یوں ایک طرف عدلیہ کی بدنامی ہوتی ہے، تو دوسری طرف پراسیکوشن پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ مقامی پولیس کا جرائم پیشہ افراد کے ساتھ تعلق اور میل جول بھی ہوتا ہے جس کے مظاہر اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر بھی نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں میری معلومات کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کے اہل کار عموماً ان کی رپورٹس حکامِ بالا کو بیچتے رہتے ہیں، لیکن معلوم نہیں سکیورٹی ایجنسیوں کے مابین رابطوں کا فقدان کیوں ہے۔ ورنہ سماج دشمن عناصر کے خلاف بروقت کارروائی ممکن ہوتی جو پولیس کی نیک نامی اور عوام کے مفاد کا باعث ہوتی۔
بریکوٹ میں ”ڈی سی آر“ اور قومی جرگہ اگرچہ مخالف فریقین کے درمیان صلح صفائی اور تنازعات کو ختم کرنے کے لیے جو خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ نہایت ہی قابل قدر اور مثبت نتائج کی حامل ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ا س کے ساتھ دوسری برائیوں کے خاتمہ میں بھی یہ جرگہ اپنا کردار ادا کرے، جس میں سرِفہرست علاقے میں منشیات فروشی کی روک تھام ہے۔بریکوٹ کا ایک اہم مسئلہ ٹریفک کی بے قاعدگی اور پولیس کی غفلت بھی ہے۔ اگرچہ وہاں بازار میں ٹریفک پولیس کی اچھی خاصی تعداد موجود رہتی ہے، لیکن وہ ٹریفک کو باقاعدہ بنانے اور سڑک کو گاڑیوں کے ازدحام سے صاف کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ بازار کے ہجوم سے باہر ناکہ لگا کر چالان کیا جائے جس سے ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں