klmaaaaaaaaaaa 203

ریاست مدینہ اور ہمارے حکمران

ریاست مدینہ اور ہمارے حکمران
غریب مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے چیخ رہے ہیں۔غیر ملکی قرضے چار گنا بڑھ چکے ہیں۔معیشیت تباہی کی طرف جارہاہے۔لاکھوں معصوم بچے سکول کے بجائے کچرے کے ڈھیر میں رزق تلاش کر رہے ہیں۔کسی بہن کی عزت محفوظ نہیں۔معصوم بچوں اور بچیوں کا ریف کرکے بے دردی سے قتل کیا جاتا ہے۔لیکن پھر بھی کہا جاتا ہے

تقریر بہت اچھی تھی
جب بھوک لگتی ہے تو منہ میں تقریر نہیں روٹی ڈالی جاتی ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کو کیا پتہ کہ غریب پہ کیا گزر رہی ہے۔

ایک بادشاہ کی بیٹی سے کسی نے کہا قحط پڑ گیا ہے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں تو اس نے جواب دیاکہ یہ لوگ چاول کیوں نہیں کھاتے۔اس کو کیاپتا تھا کہ بھوک کیا ہوتی ہے ۔

یہی حال ہمارے حکمرانوں کا ہے۔اس ملک میں اس کی زندگی اجیرن ہے جو یا تو غریب ہے اور یا حلال کمائی کی تلاش میں ہے۔
پاکستان میں بگڑتے معاشی حالات اور غریب طبقے کی بد حالی کا ذمہ دار کون؟ بڑے دعوے کرنے والے اور ریاست مدینہ بنانے والوں کا بھی کہی کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ہمارے پھول جیسے بچے سکول کے بجائے کچرے میں رزق تلاش کر نے پر مجبور ہیں،میرے معاشرے کے دہاڑی دار کے بچے رات کو سونے پر مجبور ہیں،یوٹیلٹی بلز میں استعمال شدہ ٹیرف سے زیادہ ٹیکس ہوتا ہے۔جبکہ میں نے کھبی کسی ایک عظیم لیڈر کو کہتے ہوئے سنا تھا کہ جب عوام پر ٹیکس زیادہ لگایا جاتا ہے تو سمجھ لیں کہ حکمران چور ہیں۔آٹے کا تھیلہ 800سے 1400پر چلا گیا اسی طرح اگر دیگر ضروریات زندگی اور اشیائے خورد نوش کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے اور پھر ایک غریب مزدور کی دھاڑی کا پوچھا جائے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آج کل پاکستان میں ایک غریب مزدور کیلئے اپنے گھر کا چھولہ جلانا کتنا مشکل ہے۔لائف سیونگ ڈرگز کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ ہوتا جارہاہے۔ہر چیز میں ٹیکس لیکن پھر بھی
خزانہ خالی ہے۔

اور یہ صرف موجودہ حکمران نہیں بلکہ اس ملک میں جو بھی حکمران بنتاہے اس کی منہ سے پہلاجملہ یہی سنا گیا ہے ۔لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہ جب بات عوام کی ریلیف کی بات آتی ہے تو کہا جاتا ہے خزانہ خالی ہے اور اور جب بات حکمرانوں کی بینک بیلنس کی آتی ہے تو اس میں دن دگنی رات چگنی اضافہ ہورہاہے۔

امیر المومنین حضرت عمرفاروقؓ کے دور خلافت کا ایک واقعہ ہے ک
ایک دن بیت المال کا اونٹ گم ہوا تو حضرت عمر فاروق ؓ نے دوڑ لگائی آگے انس بن قیصؓ ملے پوچھا ارے کہا جارہے ہو امیر المومنین ؓفرمایا تو بھی آجا بیت المال کا اونٹ گم ہو گیا ہے مل کہ تلاش کریںپتہ نہیں اس میںکتنے مسلمانوں کا اس میں حصہ ہے۔

اور اس کے بر عکس اگر ہم آج کل کے حکمرانوں کو دیکھیںتو جس کے پاس اپنی موٹر سائکل بھی نہیں ہوا کر تی تھی آج ان کے پاس کروڑوں کی پراپرٹیز اور  لاکھوں کی گاڑیوں میں گھومتے نظر آتے ہیں۔کہاں سے آتے ہیں یہ پیسے اگر حکمران بننے سے پیسہ آتاہے توبائیس لاکھ مربہ میل پر حکومت کرنے والے نوشیروان کے خزانے مدینہ میں لانے والے ۔خیسرو پرویز کے خزانے مدینے میںلانے والے۔رومة کبرا کے خزانے مدینہ میںلانے والے امیر المومنین حضرت عمرفاروقؓ خود اپنے کپڑوں میں تو چودہ پیوند لے کر چل رہے ہیں۔

عمر بن عبد العزیز بادشاہ وقت ہیں عید قریب تھی بچوں نے نئے کپڑے خریدینے کی فرمائش کی اس نے کہا میرے پاس تو پیسے نہیں ہیں لیکن اپنے بچوں کو کپڑے خریدنے کیلئے وزیر خزانہ کے پاس جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے اگلے مہینے کی تنخواہ ایڈوانس میں دے دو تاکہ میں اپنے بچوں کو عید کیلئے کپڑے خرید سکو ں ۔وزیر خزانہ کہتے ہیں اپ مجھے لکھ کر دیں کہ آپ ایک مہینہ زندہ رہیں گے تو میں اپ کو تنخواہ دے دیتاہوں ۔ایک بادشاہ اور اس کے بچوں نے عید کے دن پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہیں ۔ریاست مدینہ کے حکمران ایسے تھے جو قوم کے پیسوں کی حفاظت کرتے تھے۔ریاست مدینہ صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی کام سے بنتاہے ۔

ریاست مدینہ کی اگر آج بھی ہمارے حکمران بات کرتے ہیں تو اچھی بات ہے کیوں کہ ریاست مدینہ میں امیراور غریب برابر تھے انصاف ہر کسی کو دہلیز پر مل جاتا تھا ۔کوئی بھوکا نہیں سوتا ۔کسی کا حق کوئی نہیں مار سکتاتھا۔
لیکن یہاں یہ صرف باتوں تک ہی محدود ہے کیوں کہ دوسال گزرنے کے بعد بھی ریاست مدینہ کے کچھ اثار نظر نہیں آرہے ۔سب کچھ جو کے توں ہیں۔یہاں صرف

الیکشن کے وقت سبز باغ دیکھا کر کھبی نہ پورا ہونے والے وعدے کیئے جاتے ہیں جس کی زندہ مثال یہ ہے کہ
پاکستان کے عوام کو ایک امید دلائی گئی کہ 50لاکھ گھر دیے جائیںگے عوام اپنے پارم جمع کریں معصوم عوام نے لاکھوں کی تعداد میں فارم بمعہ کچھ پیسے جمع کر نا شروع کیے

اس امید سے کہ ہمیں واقعی میں سر چپانے کیلئے جگہ مل جائے گی۔لیکن یہاں پر بھی غریب کے جیب پر ڈاکہ پڑھ گیا۔نوجوانوں سے اس امیدپر ووٹ لے لیا گیا کہ ایک کروڑ نوکریاں ملے گی لیکن ان صاحبان کو خود بھی یہ پتہ نہیں تھا کہ یہ نوکریا ہم کہاں اور کیسے دیں گے۔اور آج تک وہ بے روزگارنوجوان اسی آس میں بیٹھے ہیں کہ ہمیں کب نوکری ملے گی۔اب زرا بات تبدیلی کی کرلیں تو میں قارئیں کرام سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا واقعی میں تبدیلی آئی ہے۔میرے ناقص علم کے مطابق رشوت آج بھی لی جاتی ہے لیکن پہلے جس کام کیلئے 10000ہزار روپے لیا کرتے تھے آج وہی کام پچاس ہزار روپے لیکر کیا جاتا ہے لیکن یہاں پر تبدیلی صرف یہ آئی ہے کہ پہلے کھلے عام رشوت لیا جاتا تھا اور آج تھوڑا پردے کے پیچھے لیا جاتا ہے۔تھانہ کلچر آج بھی اسی حالت میں ہے۔ غریب اگر ایک انڈا بھی چرالے تو اسے کھڑی سے کھڑی سزا دی جاتی ہے لیکن اس کے برعکس کسی اثر رسوخ والا یا امیر کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ہمارے حکمرانوں کو کوئی یہ بات سمجھادے کہ ہر روز معصوم بچے بچیوں کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے اور پھر اسے بڑی بے دردی کے ساتھ قتل کیا جاتا ہے۔میرے نوجوان نسل کو منشیا ت کے دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔ہزاروں لاکھو ں بچے سکول سے باہر ہیں۔ بے روزگاری عروج پر ہے۔ مہنگا ئی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے خدارا ان  غریب عوام پر رحم کریں۔اب زرا ان کا بھی توڑا خیال کر لیں جنہوں نے تمہیں ووٹ دیگر اسمبلوں میں بھیجاہے۔ورنہ وہ دن دور نہیں کہ اگلے الیکشن میں آپ کاستقبال شائدجوتو اور انڈوں سے کیا جائے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں