pa-sa-ke 180

محمد علی جناح کی زندگی

محمد علی جناح کی زندگی:۔

محمدعلی جناح ایک عظیم انسان تھے۔ اگر ہم پاکستان کا نام لئے اور جناح کا نام نہ لئے تو یہ کہنا غلط ہوگا۔اگر قائد عظم پاکستان

کی آزادی کے کچھ عرصے تک زندہ رہتے تو آج کشمیر کے عوام جس طرح زندگی گزار رہے ہے۔تو شاہد ان کی تاریخ کچھ اور ہوتی ۔ محمد علی جناح کے والدین ان کے پیدائش کے کچھ عرصہ پہلے کراچی آئے۔ اور یہاں پر اپنی زندگی کا آغاز کیا ۔اُس وقت کراچی ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔جوکے 5000 لوگوں کی ایک آبادی پر مشتمل تھا۔ آب چونکے کراچی ایک پاکستان کا ایک بہت بڑا شہر بن چکا ہے۔ محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے ۔ محمد علی جناح نے اپنی تعلیمی دور کا آغاز چھ سال کی عمر سے کیا ۔وہ پہلے سندھ مدرسہ میں پڑھتے تھے۔ جب وہ دس سال کے ہوگئے تو انھوں نے بمبئی کے ایک سکول میں داخلہ لیا ۔ اور پندرہ سال کی عمر میں اُس نے کراچی کے ہائی سکول میں داخلہ لیا۔پندرہ سال کی عمر میں اُس کی والدین نے اس کی شادی کردی ۔ 1892 میں وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان تشریف لے گئے۔محمد علی جناح وہاں پر ہی تھے۔ جب اُن کی بیوی کا انتقال ہو۔اور کچھ عرصے بعد اُن کی ماں بھی انتقال کر گئی ۔ فاطمہ کہتی ہے۔ جو اُن کی چچا ذاد بھائی کی بیوی تھی محمد علی جناح ایک بہادور انسان تھے۔ اور بہت توجہ رہتے تھے اپنے کام پر جب وہ رات کو پڑھتے تو روشنی کے سامنے ایک بورڈ لگا دیتے تھے۔ تاکہ بچوں کی انکھون تک روشنی نہ جائے ۔ ایک دن میں اُن کے پاس گئی اور کہا محمد علی اگر اتنا پڑوگئے تو بیمار پڑھ جاوں گے۔ تو اس نے جواب میںکہا ۔بائی اگر محنت نہیں کروں گاتوبڑا آدمی کیسے بنوںگا۔ محمد علی جناح ایک آزاد خیال انسان تھے۔ اُس وقت لوگ لڑکیوں کی تعلیم پر اتنی توجہ نہیں دیتے تھے۔جب اُس نے اپنی بہن کو سکول میں داخل کرایا۔ تو بہت سے لوگوں نے اُن کی مخالفت کی لیکن اُس نے بغیر کسی کے پروا کئے فاطمہ جناح کی تعلیمی سفر جاری رکھا۔ وہ کہا کرتا تھاکہ میری بہن کی مثال روشنی کی طرح ہے۔جب میں گھر جاتا ہوں اور فاطمہ کو دیکھتا ہوں ۔ تو مجھے ایک نئی طاقت ملتی ہے۔ محمد علی جناح کسی سے بھی نہیں ڈرتے وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا کیا ہے۔ اور موت بھی وہی دئے گا۔ تو پھر میں کسی اور سے کیوں ڈرو ایک دن عدالت میں ایک کیس کے دوران جج نے آپ سے کہا کہ زرا اونچی آواز میں بولا کرو¿ں تو جناح نے جواب دیا۔ کہ سر آگر آپ اپنے سامنے سے ساری کتابیں ہٹا دے تو اور آپ کو میری سُنی دے گا۔ اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کی کسی سے بھی ڈرنا نہیں چاہئے کیونکہ ہمارا خالق تو اللہ تعالیٰ ہے۔ تو پھر لوگوں سے کیو اُن سے کیوں نہیں ڈرتے ۔ محمد علی جناح کسی سے بھی زیادہ فیس نہیں لیتے تھے۔ آن کی ایک دن کی فیس 500روپے ہوا کرتی تھی۔ایک دن محمد علی جناح نے ایک کیس جیتا تو اُن کے کالینٹ نے تو 1000روپے دیئے تو محمد علی جناح نے 500 واپس دیئے ۔ اور کہا میں نے آپنی فیس لے لی۔ گاندھی اکثر اُن سے کہا کرتے تھے کی جناح میں آپ کو کس نام سے پکارو¿ں تو جناح نے جواب دیا۔اگر آپ میرے خیالات کا احترام کرتے تو اچھا ہوگا۔یہ تو بہت کم باتیں ہے جو میں نے آپ کو بتائی قائداعظم کی خدمات کو ہم الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے ۔مگر ہمارے آج کل کہ نوجوان نسل جس طرح ہمارے رہنما کامذاق اُڑاتے ہے تو میری اُن سے گزارش کہ اپ اپنی تاریخ دیکھے تب آپ لوگوں کو اندازہ ہوجائےگا۔ کہ اس کو بنانے کے لئے اُن لوگوںاُن لوگوں نے کتنی قربانیاں دی ہے۔ اگر آج پاکستان آزاد نہیں ہوتا تو ہمای حالت بھی اللہ نہ کرئے۔ کشمیر کی طرح ہوتی۔ تحریر انعام اللہ (بریکوٹ سوات)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں