pa-sa-ke-300x175 121

(وادی سوات)

(وادی سوات)
وادی سوات،پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخوہ میں واقع ہے۔ اس وادی کو 1970 میں ایک ضلع کا حثیت دیا گیا۔اس علاقے میں زندگی گزرنے کےلئے تمام سہولیات موجود ہے۔اور شمالی علاقہ جات کی ترقی میں بھی سوات کا ایک اہم کردارہے۔ تجارت کے لحاظ سے بھی یہ وادی ایک بنیادی حثیت رکھتی ہے۔اگر بات کی جائے اس وادی کی کل آبادی کی تو 2004 کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی 157700 ہے۔
اگر بات کی جائے اس وادی کی خوبصورتی کی توسوات اپنی قدرتی دل کش اور خوبصورتی کی لحاظ سے بھی پاکستان کا سب سے حسین ترین وادی ہے۔ اپنی ہی خوبصورتی کی وجہ سے یہ وادی دنیابھر کے سیاحوں کے لئے اہم حثیت رکھتی ہے۔اس وادی کو خوبصورتی کی وجہ سے ایشیاء کا سویٹ ذرلینڈ بھی کہا جاتا ہے۔کلام،مدین،بہرین، اور میاں دم، اس وادی کی حسین ترین علاقے ہے۔جوکہ ایک الگ منظر پیش کرتا ہے۔ یہ وادی اپنی قدیم تاریخ کی وجہ سے تاریخ دانوں کے لئے بھی توجہ کا مرکزہے۔
اور کہا جاتاہے کہ یہ وادی دنیاکے 50 قدیم ترین اثار قدیمہ میں سے ایک ہے۔ماہرین کے مطابق سوات میں %10 آثار ابھی تک دریافت نہیں ہوئے ہے۔ایک وقت یہ وادی کافروں کا علاقہ رہ چکاہے۔327 قبل مسیح میں اس وادی کو سکندر اعظم نے فتح کیا تھا۔اس کے علاوہ وادی سوات میں گندھار تہذیب اور دیگر کئ تہذبوں نے بھی پرورئش پائ ہے۔ وادی سوات ہندوں کے لئے بھی توجہ کا مرکز ہے۔اوران کے لئے ایک مقدس مقام کی حثیت رکھتا ہے۔ ہندوں کی مقدس کتاب درگیود میں سوات کو سواستوں کہا جاتاہے۔اگربات کی جائےاس وادی میں عجائب کے حوالے سے بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ والی سوات کے دور میں یہاں تعمیر ہونے والی عمارتے بھی کسی عجیبوں سے کم نہیں یہاں تعمیر ہونے والی عمارتوں میں سفید محل، جہانزیب کالج، سیدو بابا، مسجد،ودودیا ہال اس دور کے اعلی حسن کے نادرنمونے ہے۔ودودیاں ہال 1968 میں تعمیر کی گئ ہے۔ اس ہال میں 1500 افراد کے بھیٹنے کی جگہ موجود ہے۔اور تقریبا 20 دروزے بھی موجود ہے۔ لیکن حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ اس ہال میں کوئ بھی ستون موجود نہیں ہے۔لیکن ہمارے اس جنت جیسے علاقے کی قدر ہماری عوام نہیں کرتی اور حکومت نے بھی اس کی ترقی کےلئے آب تک کچھ خاص اقدامات نہیں کیں گیئں ہے۔ اگر اس علاقے میں دیگر ممالک جیسا خرچہ کیا جاتا تو آج ہمارا یہ علاقہ دنیا کے سیاحوں کے لئے مشہور ہوتا اور ملک کی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتا۔
تحریر انعام اللہ بریکوٹ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں