98313569_636926520371296_7322688866224177152_n 268

سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا باضابطہ طور پر ختم

سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کر دیا گیا۔ سعودی عرب کی وزارتِ انصاف نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ ’اب کوڑوں کے متبادل کے طور پر جیل یا جرمانے یا دونوں سزائیں دی جائیں گی، عدالتیں مقدمات کی سماعت کریں گی،
ان کا جائزہ لیں گی اور ہر مقدمے کا اس کی نوعیت کے اعتبار سے منصفانہ فیصلہ کریں گی۔‘ عرب خبررساں ادارے کے مطابق اس ضمن میں سعودی عرب کے وزیر انصاف ولید السمعانی نے گزشتہ روز تمام عدالتوں کو ایک سرکلر جاری کیا جس میں عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے آگاہ کیا گیا ہے کہ عدالتوں کو تعزیر کے طور پر اب کوڑے لگانے کی سزا دینے کے بجائے قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دینا ہوں گی۔واضح رہے کہ سعودی عرب کی عدالتِ عظمیٰ نے اپریل میں ماتحت عدالتوں کے نظام میں ایک شاہی فرمان کے تحت کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس حوالے سے عدالتِ عظمیٰ کے جنرل کمیشن نے عدالتوں کے لیے رہنما اصولوں پر مبنی ایک ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔سعودی عرب میں مختلف قسم کے جرائم پرکوڑے مارنےکی سزا دی جاتی تھی جب کہ دیگر جسمانی سزا، جس میں چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹنے، سزائے موت یا قتل اور دہشت گردی کے جرم میں سر قلم کرنے کی سزائیں ہیں تاہم اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب سعودی عرب میں کوڑنے مارنے کی سزا کا قانون ختم کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی سپریم کوٹ کے جنرل کمیشن کی جانب سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک میں کوڑے مارنےکی سزا کو قید اور جرمانوں میں تبدیل کیا جائے۔ قانونی دستاویز کے مطابق یہ اقدام شاہ سلمان اور ان کے بیٹے ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان کی جانب سے پیش کردہ انسانی حقوق کی اصلاحات میں توسیع کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ سعودی عرب میں مختلف قسم کے جرائم پرکوڑے مارنےکی سزا دی جاتی تھی جب کہ دیگر جسمانی سزا، جس میں چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹنے، سزائے موت یا قتل اور دہشت گردی کے جرم میں سر قلم کرنے کی سزائیں ہیں تاہم اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں