china 15

عالمی ادارہ تجارت کا چین کے حق میں فیصلہ امریکہ چین پر طے شدہ ریٹ سے زیادہ ٹیرف عائد کر کے عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی کر ہارہے

عالمی ادارہ تجارت کا کہنا ہے کہ امریکہ نے چین پر طے شدہ ریٹ سے زیادہ ٹیرف عائد کر کے عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے جس پر امریکہ نے برہمی کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق عالمی ادارہ تجارت نے کہا ہے امریکہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی چین کے ساتھ تجارتی جنگ کے دوران چین پر اربوں ڈالر کے ٹیرف عائد کر کے عالمی تجارتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دو سال قبل چینی اشیا پر دو سو ارب ڈالر کا ٹیرف جائز تھا کیونکہ چین نے امریکی کمپنیوں کی چینی مارکیٹس میں رسائی کے لیے ٹیکنالوجی منتقل کرنے پر مبجور کیا تھا۔
امریکی تجارتی نمائندے رابرٹ لگتھائیزر نے عالمی تجارتی ادارے کی رپورٹ کے جواب میں کہا ہے کہ، ‘پینل کی رپورٹ اس بات کی تصدیق کرتی ہے جو ٹرمپ انتظامیہ چار سال سے کہہ رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ عالمی ادارہ تجارت چین کے ٹیکنالوجی سے متعلق نقصان دہ سرگرمیوں کو روکنے میں مکمل طور پر ناکافی ہے۔’
چین کی وزارت تجارت کا کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کثیرالجہتی تجارتی نظام کی حمایت کرتی ہے اور عالمی تجارتی ادارے کے قوانین اور احکامات کا احترام کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ امریکی حکومت بھی ایسا ہی کرے گی۔
تاہم روئٹرز کے مطابق اس فیصلے سے امریکہ کے عائد کردہ ٹیرف پر کم ہی فوری اثر پڑے گا اور یہ ایک قانونی عمل کی شروعات ہے جو سالوں تک چل سکتا ہے اور جس کے نتیجے میں عالمی ادارہ صحت جوابی اقدامات کی منظوری دے سکتا ہے۔ لیکن چین نے پہلے سے ہی یہ اقدامات کر لیے ہیں۔
ممکن ہے کہ امریکی حکومت عالمی ادارہ تجارت کی جانب سے کیے جانے والے فیصلے کو لے کر عدالت سے رجوع کرے جس سے یہ معاملہ غیر معینہ مدت تک کے لیے قانونی کارروائیوں میں داخل ہوجائے گا کیونکہ امریکہ نے عالمی ادارہ تجارت کی قانونی باڈی میں ججز کی تقرری روک رکھی ہے جس کی وجہ سے کیسز کی سماعت کے لیے ججز کی جو تعداد ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔
عالمی ادارہ تجارت کے پینل ارکان کو علم تھا کہ ایسا کرنے سے وہ ایک مشکل صورتحال میں قدم رکھ رہے ہیں۔ پینل کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی اقدامات کو مدِ نظر رکھا تھا اور چین کی جوابی کارروائی کو نہیں، جس کو امریکی حکومت نے عالمی ادارہ صحت میں چیلنج نہیں کیا ہے۔
پینل نے تجویز کی ہے کہ امریکہ اپنے اقدامات کو اپنی ذمہ داریوں کے مطابق بنائے اور پینل کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو اپنے تنازع کو مجموعی طور پر حل کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں