14

ادویات کمپنیوںکاقیمتوںمیںاضافہ پربریفنگ دینے سے انکار

قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے قومی صحت کوادویہ ساز کمپنیوں نے قیمتوں میں ا ضافے پر بریفنگ دینے سے انکار کر دیا۔ منگل کوکمیٹی کا اجلاس کنونیئرڈاکٹر نثاراحمد چیمہ کی سربراہی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میںڈریپ حکام نے بھی شرکت کی ۔کنونیئر کمیٹی ڈاکٹر نثار احمد چیمہ نے کہاکہ وزیر اعظم کی ہدایت کے باوجود ابھی تک ادویات ساز کمپنیوں نے قیمتیں کم نہیںکیں جس پر ڈریپ حکام نے بتایا کہ پندرہ کمپنیاں قیمتوں میں کمی کے خلاف عدالت چلی گئیں اور حکم امتناعی لے لیا۔ رکن کمیٹی رمیش لال نے کہاکہ ان ادویات ساز کمپنیوں نے 50کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کی۔ انہوں نے کہاکہ ان کمپنیوں نے 50 کروڑ وائٹ کر لئے اور بدنام سیاست دان ہو رہے ہیں ۔کنوینئرکے سوال کے جواب میں حکام نے بتایا کہ ہیپاٹاٹیس کی ادویات بھارت اور بنگلہ دیش کے مقابلے میں سستی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ویکسین مہنگی کیونکہ وہ پاکستان میں نہ بننے کے برابر ہے ۔ قائمہ کمیٹی نے ادویہ سازکمپنیوں کی ایسوسی ایشن( پی پی ایم اے) کو اجلاس میں آنے کی دعوت دی جس نے دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ کمیٹی نے ادویات سازی کمپنیوں کی نمائندہ تنظیم کو آخری موقع دیتے ہوئے دوبارہ طلبی کا نوٹس جاری کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں