14

حکومت کونیب قانون تبدیل کرنے کا کہا تھا لیکن حکومت نے کچھ نہیں کیا۔چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے آشیانہ اقبال کیس میں امتیاز حیدرکی درخواست ضمانت منظورکر تے ہوئے ملزم کا پاسپورٹ جمع کرانے کی نیب کی استدعا مسترد کردی۔سپریم کورٹ میں پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے سابق چیف ایگزیٹو آفیسرامتیازحیدرکی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تاثردیا گیا سپریم کورٹ نے نیب قانون میںسختی کردی ہے، کہا گیا کسی کو نقصان یا فائدہ پہنچانے کیلئے عدالت نے قانون سخت کیا،عدالت نے سختی نہیں کی صرف قانونی پوزیشن واضح کی تھی۔ حکومت کونیب قانون تبدیل کرنے کا کہا تھا لیکن حکومت نے کچھ نہیں کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگراس معاملے کوہم تفصیل سے سنیں گے تومکمل انصاف کریں گے، ہوسکتا ہے ہم اس پورے کیس کو ختم کر دیں، ایک سال 8 ماہ کا وقت بہت طویل وقت ہے، قانون میں 30 دن کا وقت دیا گیاہے، امتیاز حیدرکا کوئی کردارنہیں بنتا، امتیاز حیدرکے اپنے کردارکودیکھنا ہے۔سپریم کورٹ نے امتیازحیدر کی درخواست ضمانت منظورکرلی جبکہ ملزم کا پاسپورٹ جمع کرانے کی نیب کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کو دس، دس لاکھ کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں