0000000000005 23

موٹر وے زیادتی کیس ، پولیس نے ملزم عباس کو رہا کردیا.وقارالحسن کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا

لاہور (بازیرہ تازہ ترین۔ 16 ستمبر2020ء) موٹر وے زیادتی کیس میں پولیس نے وقارالحسن کے برادرنسبتی عباس کو رہا کردیا ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق کے مطابق پولیس کی طرف سے عباس کے 2 بھائیوں سلامت اور بوٹا کو بھی چھوڑ دیا گیا ہے ، جبکہ وقار کے بارے میں کوئی فیصلہ ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا ۔ واضح رہے کہ موٹروے زیادتی کیس میں مرکزی ملزم عابد علی کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے والے عباس نامی نوجوان نے پولیس کے سامنے گرفتاری پیش کی تھی ، ملزم وقار الحسن کے بردار نسبتی عباسی نے خود گرفتاری دی ۔
تحقیقات کے دوران جیو فینسنگ کے ذریعے عباس کا نام سامنے آیا تھا جو مسلسل مرکزی ملزم عابد کے ساتھ رابطے میں تھا ۔ عباس کا کہنا ہے کہ کام کے سلسلے میں عابد علی سے اکثر رابطہ رہتا تھا۔
12 دن قبل عابد علی سے بات ہوئی تھی،میری عابد سے بات صرف کام کی حد تک ہوتی تھی۔میری تین بیٹیاں جوان ہیں،ایسا کام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔عابد علی سے تعلق صرف کام کے لیے ہوتا،اس کے علاوہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
میں خود گرفتاری کے لیے پیش ہوا ہوں اور مجھے امید ہے کہ میرے ساتھ انصاف ہو گا۔قبل ازیں موٹروے زیادتی کیس کا ملزم وقار الحسن سی آئی اے ماڈل ٹاؤن پو لیس اسٹیشن لاہور میں پیش ہو ا جہا ں اس نے صحت جرم سے انکار کر دیا تھا۔ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کیس میں نیا موڑ، ملزم خود تھانے پیش ہو گیا لاہور کے تھانہ سی آئی اے ماڈل ٹاون میں ملزم وقار الحسن نے بیان دیا کہ اس کا موٹروے زیادتی کیس سے کوئی تعلق نہیں میرے نام پر جاری سم میرا سالہ استعمال کرتا ہے، ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کو تیار ہوں ملزم نے اعتراف کیا کہ وہ مرکزی ملزم عابد علی کے ساتھ دیگر مقدمات میں شریک رہا ہے تاہم مذکورہ کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
ملزم وقار الحسن نے کہا کہ میرے برادر نسبتی عباس کے ملزم عابد علی کے ساتھ تعلقات ہیں، ملزم وقار الحسن اپنے رشتے داروں کے دباؤ کی وجہ سے پولیس کے سامنے پیش ہوا۔دوسری جا نب ملزم وقار الحسن کا ڈی این اے کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا جس کے لیے فرانزک لیبارٹری سے رابطہ کر لیا گیا۔ اب ملزم کے سیمپلز ڈی این اے کے لیے بھجوائے جائیں گے ۔پولیس نے حکام نے ملزم وقار الحسن کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں