download 72

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، عوام نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواست منیر احمد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی اور درخواست میں وفاقی حکومت، سیکرٹری پیٹرولیم سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ کابینہ کی منظوری کے بغیر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، درخواست میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے اچانک ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا۔ پیٹرول کی قیمت میں 25 روپے اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 100 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 21 اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 31 روپے سے زائد کا اضافہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 101 روپے اور مٹی کے تیل کی قیمت 59 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ ماہ یکم جون سے پیٹرول کی نئی قیمت 76.52 روپے کا اطلاق ہوا تو ایک روز بعد ہی ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں فلنگ اسٹیشنز پر فروخت بند کر دی گئی تھی۔بعد ازاں اوگرا کی جانب سے ذمہ دار کمپنیوں کو نوٹسز اور جرمانے کیے گئے مگر یپٹرول بحران کم نہیں ہوا۔ اوگرا کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں۔ترجمان اوگرا کا کہنا تھا کہ وزارت توانائی اور اوگرا ریٹل آؤٹ لیٹس تک سپلائی یقینی بنا رہے ہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو مصنوعات کی درآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کر دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کی بھی ہدایت کر دی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ بھی ذخیرہ اندوزی کی شکایات پر فوری کارروائیاں کر رہی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں