download-3 574

بریکوٹ اور ملحقہ علاقوں میں بھکاریوں کی بھر مار ہے

بریکوٹ سمیت ضلع بھرمیں نامعلوم مقامات سے آکر شاہراں،چوکوں اور دیگر عوامی مقامات پر بہروپیئے اور پیشہ ور گداگراور برقعہ پوش خواتین بھیک مانگنے کی آڑ میں گھروں میں داخل ہوکر وارداتوں میں ملوث ہے جبکہ شہری صحت مند وتوانا پیشہ ور بھکاریوں،نشہ باز گداگروں کے ہاتھوں سرعام لٹ رہے ہیں ۔انتظامیہ کے عدم تعاون کے باعث بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے
تفصیلات کے مطابق بریکوٹ اور ملحقہ علاقوں میں بھکاریوں کی بھر مار ہے۔ گدا گری کا پیشہ باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بھکاری شہریوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے مختلف ڈھونگ رچاتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بھیک بٹور سکیں۔بھکاریوں کے بھیگ مانگنے کے مختلف انداز دکھا رہے ہیں۔ بریکوٹ میں مینہ بازار ،مساجد،جی ٹی روڈ ان دنوں پیشہ ور بھکاریوں کی زد میں ہیں جس میں خواتین، جوان اور خوبصورت لڑکیاں، بچے، بوڑھے اور معذور افراد شامل ہیں جوشہریوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے نت نئے طریقے اختیار کرتے ہیں،کسی نے بچہ گود میں اٹھارکھا ہوتا ہے تو کوئی بنیائی سے محرومی کا ڈرامہ کر رہا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی منظم گروہ ان سے بھیگ منگوا رہا ہے۔کئی گداگروں نے بچوں کو دکھلاوے کے لئے مرہم پٹی کروا رکھی ہوتی ہے اور ان معصوم بچوں کو نشہ اور ادویات کھلا کر سلا دیتے ہیں ، تاکہ لوگ ترس کھا کر بھیک دیںبھکاریوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے۔سماجی کارکنوں کے مطابق گداگری کا مسئلہ سنگین شکل اختیار کر چکا ہے۔ دوسرے اضلاع کے بھکاریوں نے اس نے بھی بریکوٹ کا رخ کرلیا ہے۔بریکوٹ کے سماجی حلقوں نے انتظامیہ اور محکمہ پولیس سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں