c 63

ہیلپنگ ہینڈ کی جانب سے گیارہ ہزار خاندانوں میں فوڈ پیکجز تقسیم

کنٹری ڈائریکٹر ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ محمد سلیم منصوری نے کہا ہے کہ اس سال ہیلپنگ ہینڈ کے سیزنل پروگرام کے تحت گیارہ ہزار سے زائد مستحق خاندانوں میں رمضان فوڈ پیکیجز کی تقسیم عمل میں لائی جا رہی ہے۔ خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت سمیت پاکستان بھر کے باون اضلاع میں ساڑھے چار کروڑ روپے مالیت کے فوڈ پیکجز سے ستر ہزار افراد مستفید ہوں گے۔خشک راشن کی فراہمی میں یتیموں، بیواؤں اور معذور افراد کو ترجیحی بنیادوں پر کھانے کے پیکیج فراہم کیے جارہے ہیں۔ غیر سرکاری فلاحی تنظیم ہیلپنگ ہینڈ فار ریلیف اینڈ ڈویلپمنٹ پاکستان بھر میں ایک سہارے کے طور پر غریب اور مستحق افراد کی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ رمضان المبارک میں پہلی ترجیح وہ یتیم بچے، بیوہ خواتین اور معذور بچے ہیں جن کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں اور کرونا وائرس کی موجودہ صورت حال نے جن کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ہیلپنگ ہینڈ تیرہ مختلف شعبوں میں کام کرتی ہے۔ ان شعبوں میں سے ایک یتیم بچوں کی کفالت کا پروگرام ہے جس کے تحت پاکستان بھر کے45 اضلاع میں 9,000یتیم بچوں کی کفالت کی جا رہی ہے۔ یتیم بچوں کی زندگیوں میں قابل ذکر تبدیلی کے لیے بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی اور اعلیٰ تعلیم تک معاونت شامل ہے۔اس موقع پر ریجنل منیجر خیبرپختون خوا امین اللہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سوات سمیت خیبر پختون خواہ کے نو اضلاع میں رمضان فوڈ پیکجز کی تقسیم کا آغار ہو گیا ہے۔اس سال خیبر پختون خواہ میں 1557 خاندانوں کے دس ہزار مستحق افراد رمضان پیکجز سے مستفید ہوں گے۔ سیزنل پروگرام کے انچارج منیب الرحمن نے کہا کہ اسلام غریب اور مستحق افراد کی مدد کرنے اور ان کی فلاح و بہبود پر زور دیتا ہے۔ ہیلپنگ ہینڈ دیگر پروگرامز کے ساتھ ہر سال رمضان کے موقع پر غریب، مسکین، یتیم اور بیوہ خواتین کے لیے خشک راشن کا اہتمام کرتی ہے۔ اپنی روایات کو زندہ رکھتے ہوئے انہوں نے اس سال بھی رمضان کے موقع پر ساڑھے چار کروڑ روپے مالیت کی فوڈ پیکجزپاکستان کے چاروں صوبوں سمیت آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ اس سرگرمی کا مقصد مشکل کی اس گھڑی میں غریب افراد سمیت یتیم بچوں اور ان کے خاندانوں کی معاونت کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں