185

تعلیم کا مستقبل اپنے حال سے بے خبر! تحریر (ایاز مورس )

علیم افراد، معاشرے اور قوموں کی ترقی میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ترقی اور تیزرفتاری کی بدولت جہاں زندگی کے ہر شعبے میں غیرمعمولی تبدیلی آئی ہے وہاں تعلیم کا انداز بھی بہت بدل چکا ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باعث پوری دُنیا میں تعلیمی نظام بہت متاثر ہوا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک ٹیکنالوجی سے واقفیت اور سہولیات کی وجہ سے نیو نارمل میں اب تک نارمل ہو چکے ہیں لیکن پاکستان میں یہ صورت حال ابھی تک تسلی بخش نہیں ہے ۔کورونا وائرس کی تیسری لہر کی وجہ سے ملک بھر میں جہاں اسکول ایک مرتبہ پھر بند ہیں، کالج اور یونیورسٹی میں تعلیم کا سلسلہ جاری ہے لیکن خدشات ابھی تک اپنی جگہ قائم ہیں۔پاکستان میں موجود برطانوی ماہرتعلیم مائیکل پیرسن سے ایک انٹرویو میں میں نے یہ سوال کیا کہ آن لائن سسٹم کے باعث تعلیمی نظام متاثر ہوا ہے۔
ایسی صورت حال میں تعلیم کا کیا مستقبل ہوگا؟ اُنہوں نے جواب میں کہا کہ یہ ملین ڈالر کا سوال ہے، جس کا جواب دینا قبل ازوقت ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ اب ہمیں اپنے درس وتدریس کے نظام کو موجودہ ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔اس ضمن میں کراچی کے معروف و تاریخی ادارے سینٹ پیٹرکس کالج کے پرنسپل شمیم خورشید سے جاری مکالمے میں اُنہوں نے کہا کہ بیشک اس وقت تعلیم کے مستقبل کے حوالے سے پیدا وسائل جہاں ہمارے لیے ایک موقع بھی ہے، لیکن یہ ہمارے لیے کئی نئے امکانات بھی پیدا کررہا ہے۔ ہمیں مثبت مائنڈ سیٹ کو اپنانے کی ضرورت ہے۔انسانی تعلق اور طبعی وابستگی تعلیم کا دل ہے۔ استاد اور طلباء کے درمیان فزیکل مکالمے کا کوئی نعم البدل ہو نہیں سکتا۔ ٹیکنالوجی کسی بھی طرح سے استاد کے کردار اور افادیت کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ لیکن وقت اور حالات کے پیشِ نظر اساتذہ کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا، ٹریننگ دینا ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔ اس ضمن میں اساتذہ کی تربیت، درس وتدریس کا اسٹائل اور مائنڈ سیٹ بدلنے کی اشد ضرورت ہے، کیوںکہ اساتذہ وہ لیڈر ہیں جو ہمارے قوم کے مستقبل کے معماروں کی ذہن سازی کریں گے۔ایک فلاسفر نے اس حقیقت کو بہت ہی عمدہ انداز میں بیان کیا ہے ’’تدریس ایک مقدس پیشہ ہے ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اپنے پروفیشن کی وجہ سے اساتذہ مقدس ہستیاں ہیں، فرشتوں کی مانند، اپنے گلے کی تاریکی سے روشنی کی طرف راہ نمائی کرتے ہوئے۔‘‘ورلڈ اکنامک فورم2021 کی ایک رپورٹ کے میں اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے کہ کورونا وائرس نے ہم پر عیاں کردیا ہے کہ ہم تعلیم کے مستقبل کو اس کے حال پر نہیں چھوڑ سکتے۔ اس سلسلے میں کئی نئے منصوبوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، جن کے ذریعے ہم مستقبل کی منصوبہ سازی کرکے بہتر نتائج حا صل کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ مستقبل میں ہمیں کئی نئے چیلینجز کا سامنا کرنا پڑا سکتا ہے ۔ ہمیں اپنے تعلیمی وژن اور مشن کو پورا کرنے کے لیے صرف وہی اقدام نہیں کرنے جو صرف ہمیں مناسب اور قابل عمل لگ رہے ہیں بلکہ ہمیں حالات کے پیشِ نظر غیرمعمولی اقدام کرنے ہوں گے۔اس رپورٹ میں چار اہم نکات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر:
1 اسکولوں میں تدریس کے عمل کو بہتر، منظم کیا جائے اور عالمی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ الحاق کیا جائے۔
اسکولوں میں جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
2: تعلیمی نظام کو آؤٹ سورس کیا جائے کیوںکہ اب تعلیمی سلسلہ عوامی بن چکا ہے۔ اس لیے تعلیم کے حصول کے لیے دیگر پلیٹ فارمز، میڈیمز اور ٹولز کو بھی استعمال میں لایا جائے۔ آن لائن لرننگ کے لیے آئی ٹی اور میڈیا کمپنیوں سے معاونت حاصل کی جائے۔
3: تعلیم وتربیت کے حصول کے لیے اسکول کو ہی مرکزی حیثیت حاصل ہو لیکن تعلیمی سلسلہ صرف اسکول کی چاردیواری تک محددو نہ ہو۔
4: تعلیم ہر جگہ، ہر وقت، ہر کسی کے لیے یکساں اور دست یاب ہو۔ نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں وتعلیمی سلسلے میں اب فرق ختم ہوجانا چاہے اور ہر فرد کو اپنی مرضی، قابلیت اور شوق و ضرورت کے مطابق تعلیم حاصل کرنی چاہے۔
مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے آپ کو ہمیشہ دوراندیش اور وسیع النظر ہونا پڑتا ہے۔ ہمیں اپنی مرضی کے مستقبل کے لیے صرف اپنی مرضی کا ہی لائحہ عمل نہیں بلکہ آؤٹ آف دی بکس سوچنا ہو گا۔ یہ رونا رونے اور مسائل کا نوحہ پڑھنے کا نہیں بلکہ عملی اقدام کرنے کا وقت ہے۔ تعلیمی سسٹم کو اس تبدیلی کے لیے تیار ہونا پڑے گا۔
ہم انسانی خوبیوں کی طاقت کو جانتے ہیں اور زندگی میں سیکھنے اور آگے بڑھنے کی افادیت سے واقف ہیں۔ ہمیں عوامی بھلائی اور اجتماعی مفاد کے لیے تعلیم کی اہمیت کو اولین ترجیح دینی ہوگی۔
اِس وقت پاکستان میں تقریباً 53855200بچے، 266311 تعلیمی اداروں میں زیرِتعلیم ہیں، جب کہ کل اساتذہ کی تعداد1826400 ہے۔ یہ تو وہ بچے ہیں جو کسی طرح سے تعلیم حا صل کر رہے ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں اسکول کے باہر بچوں کے مستقبل کے بارے میں کس نے سوچنا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔
پاکستان میں اعدادوشمار کے مطابق پری پرائمری میں 13465400بچے، پرائمری میں 23942000 بچے، 175300ادارے اور 545200اساتذہ ہیں، مڈل میں 7641500 بچے، 47700 ادارے اور 469200 اساتذہ، ہائی اسکول میں4117900 بچے، 31700ادارے اور580300اساتذہ، ہائر سیکنڈری 1757200بچے، 5900 ادارے، 121500اساتذہ، ڈگری کالج 597600بچے، 1700ادارے، 40000 اساتذہ، ٹیچنگ اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ، 470800 بچے، 3800انسٹی ٹیوٹ، 18700اساتذہ،
یونیورسٹیز میں 1862800طالبِ علم، 211 یونیورسٹیز،51500 اساتذہ ہیں۔
ا پس منظر کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہم سنجیدگی کے ساتھ ٹھوس اور جامع اقدامات کریں تو ہی ہم تعلیمی نظام میں اس تبدیلی کے لیے خود کو تیار کرسکتے ہیں۔
اساتذہ کی ٹریننگ: ایک ٹیچر صرف تنخواہ کماتا ہے؛ لیکن ایک عظیم استاد عزت، نیک نامی، ایمان داری، شہرت اور محسن ہونے کا مرتبہ حا صل کرتا ہے۔ ٹیچر ایک ملٹی ٹیلنٹڈ آرٹسٹ ہوتا ہے جو اپنے فن کا بہترین استعمال کرکے طالب علم کی رُوح تک پہنچتا ہے۔ استاد ایک سے زیادہ زندگیاں جیتا ہے، کیوںکہ وہ اپنے خوابوں کو اپنے شاگردوں میں منتقل کرتا ہے، اور شاگردوں کے تشخص، شخصیت اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے اُنہیں متحرک کرتا ہے کہ وہ اُس کے خوابوں کی تکمیل کرتے ہیں۔ ایسے استاد زندگی کی خواہشات سے بالاتر ہو کر رول ماڈل بن جاتے ہیں۔ اساتذہ کی ٹریننگ ایک نہایت اہم مرحلہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ہمیں ان نکات پر عمل کرکے اپنی تعلیمی پالیسی کو مرتب کرنا ہوگا۔
وقت اور جگہ کی قید سے آزاد:
ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو جدید طریقے سے ایسے ہم آہنگ کرنا ہوگا کہ یہ وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہو۔
انفرادی لرننگ:
تعلیم اب ہر شخص کا انفرادی عمل ہے۔ ہر کسی کو اپنی مرضی اور شخصی آزادی کے مطابق لرننگ کو ترجیح دینی ہوگی۔
آزاد مرضی:
تعلیم میں زبردستی اور مار پیٹ کا تصور بالکل ہی ختم ہو چکا ہے۔ یہ انسان کی مکمل آزاد مرضی پر منحصر ہے۔
پروجیکٹ کی بنیاد:
کیریر کی بنیاد اور لرننگ کے طریقے کار اب بدل چکے ہیں۔ ڈگری اور کورس پر نہیں، پروجیکٹ بیس تعلیمی لرننگ کو فوکس کرنا ہوگا۔
فیلڈ کا عملی تجربہ:
پاکستان میں یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ یونیورسٹی اور انڈسٹری کے درمیان بہت بڑا گیپ ہے جسے کم کرنے کے لیے طلب علموں کو ان کی فیلڈ کا عملی تجربہ کروایا جائے۔
ڈیٹا کا دور:
آج کا دور اور وقت ڈیٹا اور اسپیشلائیزیشن کا دور ہے۔ ہر چیز کو ڈیٹا کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے اس لیے تعلیمی نظام کو بھی ڈیٹا سے جوڑنا ہو گا۔
امتحانات کا طریقہ کار:
پاکستانی امتحانی سسٹم پہلے ہی بہت سے سوالات کا شکار ہے لیکن آن لائن کے بعد اس کا طریقۂ کار مزید بدلنے کی اشد ضرورت ہے۔
طلب علموں کی اونرشپ:
سب سے اہم اور کلیدی کردار طلبا کا ہوگا۔ اُنہیں اپنی تعلیم کے عمل کو مکمل طور پر اون کر نا ہوگا۔ اگر طالب علم اس عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے تو ہی مطلوبہ نتائج حا صل کیے جاسکتے ہیں۔ طلباء کو ڈگری کی دوڑ سے نکل کر لرننگ کی طرف توجہ دینی ہو گی تاکہ وہ بدلتے ہوئے دور کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو پالش کر سکیں۔
مینٹورز کا کردار:
مینٹورز (Mentors) وہ لوگ ہیں جو آپ کو آپ کی پہچان کرواتے ہیں، یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو آپ کی منزل کے فاصلے کو کم کرکے آپ کو منزل تک پہنچنے کا راستہ بتاتے ہیں۔ ہر کام یاب انسان کی زندگی میں مینٹورز کا کردار انتہائی اہم ہو تا ہے اورآج کے جدید، ترقی یافتہ اور اسپیشلائزیشن کے دور میں مینٹورز کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑٖھ جاتی ہے۔ مینٹورز کی تلاش کے لیے دُنیا بھر میں بے شمار طریقۂ کار، نظریات اور فارمولے موجود ہیں جن پر کتابیں اور مضمون لکھے جا چکے ہیں اور اس موضوع پر کئی ڈوکومینٹریز اور فلمیں بھی بن چکی ہیں۔
دُنیا بھر میں اس ایک خاص موضوع پر تربیت، ورکشاپس اور کورسز منعقد کروائے جاتے ہیں۔ مینٹورشپ ایک فن ہے جس کا استعمال اب صرف اسپورٹس، روحانیت اور بزنس تک محدود نہیں بلکہ یہ اب زندگی کے ہر شعبے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ آپ کی پرسنل، پروفیشنل اور سپریچوئیل زندگی میں اس کا بہت اہم رول ہے۔ ایک اچھے مینٹور کی تلاش کیسے کی جائے اور اُس تک رسائی کیسے ممکن ہو بنائی جاسکے؟
یہ ایک اہم اور مشکل سوال ہے جس کا جواب ہر انسان کے لیے مختلف ہے۔ میری نظر میں ایک اچھا مینٹور وہ شخص ہے جس کی موجودگی اور رفاقت میں آپ کو اپنی ذات پر بھروسا، یقین اور سب سے بڑھ کر خود پر اعتماد کرنے کا احساس ہو۔
اچھا مینٹور آپ کو اپنی ہدایات پر عمل کرنے کے لیے نہیں بلکہ آپ کی صلاحیتوں پر بھروسا کرنے کے لیے ترغیب دیتا ہے۔ اچھا مینٹور آپ کے اندر صرف حوصلہ، ہمت، بہادری، تڑپ اور اخلاقیات کو تلاش کرتا ہے۔ باقی وہ سب آپ کو سکھا سکتا ہے۔ میں اکثر کہتا ہوںکہ ’’ایسے مینٹورز تلاش کریں جن سے بات کرکے آپ اپنی کم زوریوں اور کمتری کا احساس نہ ہو بلکہ، ایسے مینٹورز ڈھونڈیں جن سے مل کر، بات کرکے آپ کو خوداعتمادی اور حوصلہ ملے۔‘‘
مینٹور کا انتخاب کرتے ہوئے ایسے انسان کا انتخاب کریں جس کی شخصیت، زندگی اور کام آپ کو متاثر کرتا ہے۔ وہ انسان آپ کے لیے نمونۂ عمل کا درجہ رکھتا ہو۔ اُس کی اپنی زندگی مثالی ہو اور وہ سب حاصل کرچکا ہو جس کی آپ کو تلاش ہے۔ یاد رکھیں یہ ایک ایسا تعلق ہے جس میں اعتماد، بھروسا اور باہمی عزت انتہائی اہم ہے۔ مینٹور کے انتخاب کے لیے آپ مینٹور کے پاس جاتے ہیں اور اپنے کیریئر میں ترقی کے لیے اُن سے راہ نمائی لیتے ہیں۔ یہ بھی آپ پر منحصر ہے کہ آپ اپنی زندگی میں اپنے مینٹور کو کتنی اہمیت اور اختیار دیتے ہیں یہ رضاکارانہ اور بے لوث رشتہ ہے۔
مینٹور کیوں ضروری ہے؟
مینٹور آپ کو زندگی کے منفردزاویوں، نقطۂ نظر اور دُوراندیشی سے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔
مینٹور آپ کو زندگی کے ایسے واقعات اور مواقع کے متعلق سوچنے پر متحرک کرتا ہے جو کبھی آپ نے سوچے ہی نہیں ہوتے۔
مینٹور آپ کو آپ کی ذات کی پہچان، خود شناسی اور سب سے بڑھ کر زندگی کی حقیقت پر مبنی تجزیہ کرنے میں معاونت کرتا اور آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ آپ اپنے مقررہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے کام کریں۔
مینٹور آپ کو خوابوں کی دُنیا سے نکال کر حقیقی دُنیا میں لے کر آتا ہے اور آپ سے زندگی کے ایسے پہلوؤں پر بات کرتا ہے جو آپ کو ہر کوئی نہیں بتا سکتا۔
ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ تعلیم یک طرفہ عمل نہیں بلکہ یہ حکومت، معاشرے، والدین، اساتذہ اور طالب علموں کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور جب تک کسی بھی معاشرے میں تمام افراد اپنا اپنا کردار نہیں نبھاتے، معاشرے میں ترقی کی وہ رفتار حاصل نہیں کر سکتے جو وہ چاہتے ہیں۔لیکن ان سارے سوالات کے ساتھ ایک اور سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ جہاں اپنے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، وہاں تعلیمی میدان میں نئے چیلینجز سے ہم کیسے نبروآزما ہوں گے۔ کیا ہم واقعی ہی بحیثیت قوم اس اہم نکتے پر قبل ازوقت منصوبہ بندی کررہے ہیں؟ اس کا فیصلہ وقت کرے گا جو کہ ہمارے پاس بہت کم، بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں