318

خواتین کا عالمی دن اور ہماری ذمدداریاں

خواتین کا عالمی دن(تحریر :اشفاق الملک خان)
دنیا بھر میں ۸ مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اسی دن دنیا بھر کی عالمی تنظیمیں برائے حقوق نسواں، مختلف سماجی تنظیمیں اور انسنای حقوق سے منسلک تنظیمیں مختلف قسم کی پروگرامات منعقد کرتے ہیں، اور اسی طرح عورتوں کے حقوق کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح صحافتی دنیا سے منسکل افراد کالموں، انشائیوں اور مضامین کے زریعے اس دن کی اہمیت کا اجاگر کرتی ہے۔
عورت فطرت کا حسین تحفہ ہے اور اس حسین تحفہ فطرت کی عدم وجود سے خوشبو اور رنگ و گل کی یہ دنیا پیکا پیکا لگنے لگے گا، بلکہ وجود انسانیت عورت کی کوکھ کی مرہون منت ہیں۔
ْْٓٓٓٓاقبال نے بھی عورتوں کی وجود کے بارے میں بنی نوع اانسانیت کو تلقین کی ہے کہ
وجود زن سے ہے تصویر کائینات کا رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خاک اس کی
ہر شرف ہے اسی درج کا درمکنوں
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن
لیکن اسی کے شعلے سے پوٹا شرار افلاطون
خواتین کی عالمی دن منانے کا مقصد دنیا کو اور خصوصا پسماندہ طبقات کو یہ شعور دلانا ہے کہ خواتین بھی مردو؎ں کے شانہ بشانہ روزگار زیست سرانجام دے سکتی ہے۔ اور ساتھ یہ باور بھی کہ خواتین بھی مساوی بشری، سماجی، اقتصادی اور وراثتی حقوق کی حقدار ہیں۔
اسلام نے خواتین کو چودہ سو سال پہلے جو حقوق عنایت فرمائی ہے، بشری حقوق پر کام کرنے والے افراد ٓج بھی انگشت بدنداں ہیں۔
اگر چہ اسلام کا پیغام ٓفاقی اور کائیناتی ہے، حقوق مرد وزن میں بہترین توازن اسلام ہی کا مرہون منت ہے۔ تاہم ہمارے معاشرے اور روایتی طرز فکر نے عورت کو اپنی پیدائیشی حقوق سے محروم کر رکھا ہے۔ اگرچہ مغربی اور اسلامی تصور حقوق نسواں میں بعدالمشریقین ہے
لیکن کچھ چیزوں پر ساجھا ممکن ہے۔ اسلام عورت کو شمع انجمن کی بجائے اور مردوں کی جنسی حوس سے بچاتے ہوئے ایک اذاد، خود مختار، عفت و عظمت کا شاہکار دیکھنا پسند کرتا ہے۔ وہ ایک طرف عورت کو تمام نجی فیصلوں میں مکلم خود مختاری عطاکرتا ہے تو دوسری طرف احساس ذمہ داری سے سرشاری کا پاکیزہ وصف بھی ودیعت کرنا چاہتی ہئے۔ بدقسمتی سے ہم اسلامی تعلیمیات اور روایتی قبائیلی رسم و رواج میں خط امتیاز کھینچنے سے قاصر ہیں۔ لھذا عورت کو چاردیواری میں بند کرکے اور حصول تعلیم جیسی بنیادی حق سے محروم کرکے گویا دین اسلام کی خدمت کررہے ہوتے ہیں۔ جبکہ یہ صریحا گناہ اور اسلامی تعلیمات سے روگردانی ہے۔ پسند کی شادی ہو کہ حق وراثت، اسلام عورتوں کی شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ لیکن ہمارا کھڑ پن اور خاندانی جاہ و جلال عورتوں کو ان کی جائیز حقوق سے محروم رکھتی ہے، اور یوں معاشرہ تنزل اور زوال کی عمیق گہرائیوں میں گر پڑتی ہے۔
عورتوں کی حقوق اسلام اور ٓئین پاکستان میں محفوظ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ موثر اطلاق قانون کے زریعے عورتوں کو طویل اور اعصاب شکن عدالتی کشمکش سے عورتوں کو نکال کر گھر کی دہلیز پر حقوق کی فراہمی یقینی بنائی جائی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں