126

منی لانڈرنگ کیس:شہباز اور حمزہ کی عبوری ضمانت میں توسیع


شوگر کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس میں لاہور کی بینکنگ کورٹ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری درخواست ضمانتوں میں 25ستمبر تک توسیع کر دی۔

بینکنگ کورٹ میں دوارن سماعت شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر کہا کہ نیب نے بھی اسی کیس کی انکوائری کی کچھ نہیں ملا اور ہائیکورٹ نے اپنی حکم نامے میں لکھا کہ نیب کے پاس ٹھوس شوائد نہیں ہیں۔ میں شوگر ملز کا ڈائریکٹر یا مینجمنٹ میں نہیں تھا۔شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ میرے دورے میں تو چینی دیگر صوبوں کی نسبت سستی ہوئی جبکپ ایف آئی اے نے حقائق کے برعکس مقدمہ بنایا۔تفتیشی رپورٹ مکمل نہ ہونے پر عدالت نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ فاضل جج نے کہا کہ افسوس ہے دو ماہ سے ایف آئی اے نے تفتش مکمل نہیں کی اور ایف آئی اے کی تفتشی ٹیم نے دو ماہ میں چار لائنیں لکھی ہیں۔عدالت نے ایف آئی اے کو جلد از جلد تفتیش مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 25ستمبر تک ملتوی کر دی۔بینکنگ کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں لیگی رہنما عطا تارڑ نے کہا کہ ایف آئی اے کے کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز عدالت پیش ہوئے جبکہ اس کیس میں شہباز شریف سات ماہ اور حمزہ شہباز تقریبا 20ماہ جیل کاٹ آئیں ہیں۔عطا تارڑ نے کہا کہ ایف آئی اے کی یہ انکوائری جیل سے شروع کی گئی اور ایف آئی اے پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان نے جیل کے دورے کے دوران سوال نامہ دیا۔ جیل دورے کے دوران ایف آئی اے کو کیوں یاد نہیں آیا کہ انکی گرفتاری مقصود ہے۔لیگی رہنما نے سوال اٹھایا کہ حکومتی وزراء کے خلاف چینی ادویات کے اسکینڈل پر کیوں کیسز نہیں بنائے گئے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے عمران خان نیازی سیاسی کیسز بنا رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں