355

بھارت سے ادویات درآمد کرنے کا سکینڈل ، تحقیقات کے دوران تہلکہ خیز انکشافات

انڈیاسے ادویات درآمد کرنے کے سکینڈل کی تحقیقات میں سنسنی خیزانکشافات سامنے آئے ہیں۔نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی کابینہ نے 9 اگست 2019 کو بھارت سے ادویات کی درآمدات پر پابندی لگائی،وفاقی کابینہ کے بجائے وزیراعظم آفس سے 25 اگست کو فیصلے میں ترمیم کرائی گئی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں وزیراعظم آفس منظوری دینے کا مجاز نہیں ۔دستاویزات کے مطابق مشیر تجارت رزاق داؤد اور معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے میٹنگ کی ،وزارت تجارت نے 24 اگست کو کابینہ ڈوبینہ ڈویژن کو فیصلے میں ترمیم کیلئے خط لکھا،رولز کے مطابق کابینہ فیصلے میں ترمیم کیلئے 24 گھنٹے میں رجوع کرنا لازم تھاجو کہ کئی دن بعد لکھا گیا۔ڈاکٹر ظفرمرزا کی ڈی جی ٹریڈپالیسی محمد اشرف کیساتھ رابطے کی انکوائری مکمل ہوگئی ہے،ڈاکٹر ظفرمرزا نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سوالات اٹھنے پر لاعلمی کااظہار کیا،نجی ٹی وی کے مطابق ادویات درآمد کرنے کے فیصلے میں حکومت پریشان ہے اور معاملہ نمٹنانے کیلئے کوششیں شروع کردیں۔ دوسری جانب اس سارے معاملے پر ن لیگ بھی خاموش نہ رہی ، مریم اورنگزیب نے صحت عامہ کے شعبے کی تباہی کا ذمہ دار وزیراعظم عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ اربوں روپے کے ادویات سکینڈل کی شفاف تحقیقات ہوسکیں۔ وزیراعظم عمران خان وزیر صحت عمران خان کی کرپشن کا جواب دیں۔ اتوار کو بیان میں انہوں نے کہاکہ وزیر صحت عمران نیازی نے دو سال میں ہر شعبہ کی طرح صحت کے شعبے کا بھی بیڑہ غرق کردیا ہے۔ وزیر صحت عمران خان کی وجہ سے اسلام آباد کے ہسپتالوں کی مینجمنٹ کا برا حال ہے۔ ڈاکٹرز، نرسز اور طبی عملہ ہتھیاروں کے بغیر کرونا کی خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔ وزیرصحت عمران خان اب تک مستقل ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ تعینات نہیں کرسکا۔ مریم اورنگزیب نے کہاکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں شروع ہونے والے صحت کے 20 منصوبوں کو موجودہ حکومت نے ختم کردیا۔ وزیراعظم نواز شریف کے شروع کردہ صحت کارڈ کو انصاف صحت کارڈ میں بدل دینا ہی عمران صاحب کی واحد کارکردگی ہے۔ کرونا کی وبا میں وزیراعلیٰ شہباز شریف کے قائم کردہ صحت کے ادارے عوام کی خدمت میں فہرست ہیں۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف نے 2018ء میں پی کے ایل آئی قائم کیا تھا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی لیبارٹری (پی ایف ایس) وزیراعلی شہبازشریف نے جرائم کی جدید خطوط پر تحقیق اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے قائم کی تھی۔ انکی قیادت میں قائم ہونے والے تین اداروں ہیپاٹائٹس پروگرام لیبارٹری، پی کے ایل آئی اور فارنزک سائنس ایجنسی نے مجموعی کرونا ٹیسٹس میں سے 85 فیصد ٹیسٹ کئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں