jahangir-khan-tareen-1024x536 137

تحریک انصاف کی حکومت کیخلاف باقاعدہ بغاوت، جہانگیر ترین گروپ قیام کا باقاعدہ اعلان

تحریک انصاف کی حکومت کیخلاف باقاعدہ بغاوت، جہانگیر ترین گروپ قیام کا باقاعدہ اعلان۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین نے اپنے ہم خیال اراکین اسمبلی کے ہمراہ اپنی حکومت کیخلاف باقاعدہ بغاوت کر دی ہے۔ اس حوالے سے رکن پنجاب اسمبلی سلمان نعیم اور عون چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ترین گروپ نے قومی اور پنجاب اسمبلی میں اپنے پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیے ہیں۔راجہ ریاض قومی اسمبلی جبکہ سعید اکبر نوانی پنجاب اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مقرر کیے گئے ہیں۔ بتایا گیا کہ تحریک انصاف کے سینئر اور مرکزی رہنما جہانگیرترین کی آج پیشی ہے، اسی سلسلے میں انہوں نے ہم خیال گروپ کو عشائیہ دیا ، عشائیے میں راجہ ریاض، نعمان لنگڑیال، اسلم بھروانہ، عون چودھری، امین چودھری اور نذیر چوہان بھی ترین ہاوس عشائیے میں گئے۔
اجلاس میں تحریک انصاف کے نئے ارکان بھی شریک ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں ایم این اے راجا ریاض نے کہا کہ ایف آئی اے اور بیرسٹر علی ظفر کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔ جہانگیر ترین کی سربراہی میں سیاسی فیصلے بھی لینے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی معاملات ٹھیک ہونے کی بجائے خراب ہو رہے ہیں۔نذیر چوہان نے کہا کہ آپ ہمارے لیڈر ہیں آپکی محبت و خلوص کی خاطر اکٹھے ہوتے ہیں۔ہمیں جو ملنا تھا مل گیا اب آپ کو فیصلے لینے ہیں آپ قیادت کریں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہماری کوشش ہوگی آخری وقت تک آپ کا مقدمہ لڑیں۔ ترین گروپ کا لیبل تو لگ گیا ہے اب ہمیں اس کو آگے چلانا چاہیے۔ جہانگیرترین نے کہا کہ اب آئندہ مل کر کوئی لائحہ عمل بنائیں گے۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اوروزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دیانتداری سے کہتا ہوں کہ جہانگیرترین کو اپنا سیاسی حریف نہیں سمجھتا، جب عمران خان نے ارکان اسمبلی سے ملاقات میں تسلی دی کہ انتقامی کاروائی نہیں ہوگی تو پھر اس قسم کے اجتماعات بے معنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین عمران خان کے مزاج کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، جہانگیرترین جب اس طرح کے حربے استعمال کریں گے تو وہ جانتے ہیں عمران خان دبا و یا بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔ ان کو منطق اور دلائل سے قائل کیا جاسکتا ہے لیکن دھمکایا نہیں جاسکتا۔ میری گزارش ہے کہ اپنے انداز درست کریں، تحریک انصا ف کا ووٹر، سپورٹر اس انداز کو پسند نہیں کرتااور وہ کارکن سمجھتے ہیں کہ ان کے لیڈر کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کس کس سے لڑے، وہ اپوزیشن سے لڑے، مافیا سے لڑے، اپنی جماعت کے اندر انتشار کو روکے؟اس وقت عمران خان کو دباو میں ڈالنے کی بجائے ان کے ہاتھ مضبوط کرنے کا وقت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں