403

وزیراعظم کا ہفتے کے روز سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن کھولنے کا اعلان

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کے روز سے مرحلہ وار لاک ڈاؤن کو کھولنے کا اعلان کر دیا۔
وزیراعظم عمران خان نے ملک بھرمیں کوروناوائرس کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن سے عوام شدید مشکلات میں تھی،ہمیں خوف تھا کہ لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دار طبقے کا کیا ہو گا۔پاکستان میں حالات چین اور یورپ سے مختلف ہیں،پوری دنیا کی طرح پاکستان نے بھی لاک ڈاؤن کیا،سماجی فیصلے سے وائرس کا پھیلاؤ رک گیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سارے صوبوں کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ اب آسانیاں پیدا کرنی ہیں،تعمیراتی شعبے سے متعلق مزید سیکٹرز کھول رہے ہیں۔معیشت کھولنے اور لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے ہمہ وقت سوچتے رہتے ہیں۔
وزیراعظم نے ہفتے کے روز سے ملک بھر میں جاری لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کر دیا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں عقلمندی سے لاک ڈاؤن کھولنا ہے ،لوگوں نے احتیاط نہ کی تو دوبارہ لاک ڈاؤن کرنا پڑ جائے گا۔دکانوں ،فیکٹریوں اور تمام شعبہ زندگی کے لیے ایس او پیز بنائے ہیں،تمام پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے کہ ایس او پیز پر عمل کریں،حکومت ڈنڈے کے زور پر عملدرآمد نہیں کرا ئے گی،ایس او پیز پر قوم بن کر عمل کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام شعبے مشکل میں ہیں، لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہمارا ٹیکس کم ہو گیا،حکومت کے پاس پہلے ہی پیسہ کم تھا لوگوں میں کتنا بانٹ سکتے تھے ،میری خواہش ہے کہ ٹرانسپورٹ کھلنی چاہیے ،سپریم کورٹ کی رائے تھی کہ ٹرانسپورٹ کھولی جائے،ٹرانسپورٹ کھولنے سے متعلق پوری طرح اتفاق نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں سے کہا کہ اپنے فیصلے خود کریں،صوبوں کے خدشات ہوں تو ایسے کوئی فیصلے نہیں کریں گے۔
ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ کورونا کیسز میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ،آنے والے دنوں میں کورونا کیسز بڑھ سکتے ہیں،پاکستان کے حالات دوسرے ممالک سے بہت بہتر ہیں،پسماندہ علاقوں میں طبی سہولیات بہتر کرنے کی کوشش کر رہےہیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے صوبوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کیے گئے ، وزیراعظم چاہتے تو ٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ صوبوں پر مسلط کر سکتے تھے ،ہم نے جتنے بھی فیصلے کیے یہ سوچ کر کیے کہ ان کا انسانی زندگی پر کیا اثر پڑے گا،ٹاک شوز دیکھیں تو لگتا ہے کہ وفاق اور صوبے دست و گریباں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے چھوٹی دکانیں اور مارکیٹیں کھولنے کی اجازت دے دی،صبح فجر سے شام 5 بجے تک دکانیں کھلی رہیں گی،جبکہ بڑے شاپنگ مالز نہیں کھلیں گے،تاہم وفاقی حکومت نے تمام کاروبار ہفتے میں 2 روز بند کرنے کا اعلان بھی کیا ہے ،علاوہ ازیں منظور شدہ او پی ڈیز بھی کھولے جائیں گے۔
ہفتے کے روز سے پائپ ملز کو کھولا جائے گا،پینٹ بنانے والی فیکٹریاں،سیرامکس اور ٹائیل کی دکانیں بھی کھولی جائیں گی،اسٹیل اور ایلو مینیم فیکچرنگ کو بھی کھولا جائے گا۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ بورڈ امتحانات پر اتفاق ہو گیا ہے ،بورڈ کے امتحانات منسوخ کر دیے گئے ہیں،میٹرک اور انٹر کے امتحانات نہیں ہوں گے ،گزشتہ سال کے نتائج کی بنیاد پر پروموشن دی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں