363

پاکستان میڈیکل ایسوی ایشن نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی مخالفت کر دی

کراچی : پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن میں نرمی کر کے کورونا کیلئے دروازے کھول رہی ہے۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کے اعلان پر ڈاکٹرز ایک بار پھر میدان میں آگئے ، پی ایم اے ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے عہدےداروں کا کہنا تھا کہ اگرلاک ڈاون نرم ہی کرنا ہے تو پھر عملہ اوروینٹللیٹرز بھی بڑھائیں ورنہ بہت مشکل صورتحال پیدا ہوجائے گی ، ڈاکٹرزکا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے گزارش ہے سائنس کی دنیا کو سمجھنے کی ضرورت ہے، ہماری نظرمیں کوئی شخص بھوک سے نہیں مرا ، لیکن کورونا سے ہر روز لوگ مررہے ہیں ، لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے سے وبا مزید پھیلے گی۔پی ایم اے جنرل سیکریٹری کا کہنا تھا کہ پنچاب اور سندھ کے لئے ایک سسٹم ہونا چاہیئے، ڈاکٹروں کے لئے بھی اورعملے کے لئے بھی حفاظتی سامان مہیا کیا جائے۔
دوسری جانب صوبائی وزیرصحت نے بھی لاک ڈاؤن میں نرمی سے کیسز بڑھنے کا خدشہ ظاہر کردیا، انہوں ےن کہا کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے سے اسپتالوں میں بیڈزاور وینٹیلیٹر کی شارٹیج ہورہی ہے ، صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ کوورنا کیسز بڑھنے پہلے ضروری ہے کہ احتیاط کی جائے ، شہری خاص طور پر بزرگوں سے رابطہ کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں ۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے دو روز قبل اعلان کیا تھا کہ 9 مئی سے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤکو روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کی جائے گی۔قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم نے 13 مارچ کو لاک ڈاؤن نافذ کیا اور عوامی مقامات کو بند کیا لیکن مجھے پہلے دن سے یہی خوف تھا کہ ہمارے حالات یورپ، چین سے مختلف ہیں اور ہم نے جو لاک ڈاؤن کرنا ہے وہ مختلف ہوگا کیونکہ یہاں یومیہ اجرت پر کام کرنے والا دار طبقہ ہے اور ہمیں خدشہ تھا کہ اگر سب بند کردیا تو ان لوگوں کا کیا بنے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں