362

پب جی گیم پر پابندی پی ٹی اے کو چھ ہفتے میں فیصلے کا حکم دے دیا

عدالت نے بچوں کے ذہنوں پر( منفی اثرات ڈالنے والے مشہور زمانہ ویڈیو گیم پب جی پر پابندی لگانے سے متعلق پی ٹی اے کو چھ ہفتے میں فیصلے کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابق بچوں میں مقبول ترین ویڈیو گیم ان دنوں پب جی ہے اور نا صرف بچے بلکہ بڑی عمر کے افراد بھی اس پرتشدد گیم کو کھیلتے نظر آتے ہیں جس کے باعث معاشرے میں شدت پسندی کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے۔بچوں کے دماغی صحت خراب ہونے اور اہل خانہ کے ساتھ وقت نہ گزارنے کے باعث لاہور ہائی کورٹ میں پب جی پر پابندی عائد کرنے کیلیے درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے چھ ہفتوں میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مذکورہ گیم کو کھیلنے سے بچوں میں قوت فیصلہ ختم ہوتی جارہی ہے اور ان کے دماغ پر بھی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں جو معاشرے کیلیے بھی ٹھیک نہیں ہیں۔ماہر قانون ایڈوکیٹ بلال ریاض نے کہ پب جی گیم کی گرافکس اس طرح سے تیار کی گئیں ہے کہ بچے خود ساختہ طور پر اس کی طرح مائل ہوجاتے ہیں جس کے باعث ان کا رابطہ اپنے اہل خانہ و والدین سے کم ہوجاتا ہے۔ایڈوکیٹ بلال ریاض کا کہنا تھا کہ اس گیم کا ایک رانڈ چالیس منٹ کا ہے اور اگر کوئی کھلاڑی ذرا سی سستی دکھاتا ہے تو اسے گیم سے آٹ ہونا پڑتا ہے اسی لیے بچے زیادہ سے زیادہ وقت اس ویڈیو گیم پر گزارتے ہیں تاکہ جیت سکیں تاہم اس وجہ بچوں کے دماغ پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ماہر قانون کا کہنا تھا کہ یہ گیم اس قدر خطرناک ہے کہ لاہور میں ایک بچہ مذکورہ ویڈیو گیم کی وجہ سے خودکشی بھی کرچکا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کی جانب سے پابندی کے بعد پب جی ویڈیو گیم ایپ اسٹور پر بھی موجود نہیں رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں