456

پہلے بھی کئی بار معافی مانگی اب بھی مانگتا ہوں۔۔۔ہارون الرشید نے عمران خان کی حمایت پر گھٹنے ٹیک دیے، اعتراف میں کیا کچھ کہہ گئے ؟

لاہور(ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار ہارون الرشید نے کہا ہے کہ عمران خان کی حمایت پرکئی بار معافی مانگی، پھر معافی مانگتا ہوں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ زرداری صاحب یا میاں صاحب سے امید وابستہ کرلی جائے،عمران خان سے اختلاف ہے بغض وعناد نہیں، عمران خان کے حامیوں نے آج جی بھر کے گالیاں دیں،
اللہ انہیں خوش رکھے۔انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں کہا کہ میر شکیل الرحمان کی گرفتاری حماقت ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور کابینہ بھی حیران ہے۔ ساری دنیا کورونا کے عذاب میں ہے۔ بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے اور انہیں یہ سوجھی۔ کرپشن ہی مسئلہ ہے تو ملک ریاض اور خسرو بختیار پہ عنایات کیوں؟ انصاف کا کوئی دوست ہوتا ہے اورنہ دشمن۔ہارون الرشید نے کہا کہ کون ذی شعور احتساب کی مخالفت کرے گا۔میر شکیل الرحمان کی گرفتاری حماقت ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور کابینہ بھی حیران ہے۔ ساری دنیا کرنا کے عذاب میں۔ بھارت اور کشمیر میں مسلمانوں کا لہو بہہ رہا ہے اور انہیں یہ سوجھی۔ کرپشن ہی مسئلہ ہے تو ملک ریاض اور خسرو بختیار پہ عنایات کیوں؟ انصاف کا کوئی دوست ہوتا ہے اورنہ دشمن۔مگر اس نظام عدل ،حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا انصاف سے کیا تعلق۔ دل کے ہسپتال میں مریضوں اور ڈاکٹروں پر حملہ کرنے والے وکیلوں کے خلاف کارروائی کیوں نہ ہو سکی؟ مکرر عرض ہے کہ ملک ریاض اور خسرو بختار کیوں آزاد ہیں۔ طعنہ نہیں دلیل عنایت کیجئے۔ انہوں نے اپنے مزید ٹویٹس میں کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت، اپوزیشن، میڈیا اور عدلیہ، علماء یا کاروباری طبقات، بالعموم کسی میں خوف خدا ہے اور نہ اصول کی پاسداری ۔مخلص گمراہ اور متوکل برکت سے محروم نہیں ہوتا۔ ہم سب کو اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہئے۔ عذاب ہم۔ یہ کیوں ہے اور مسلسل کیوں؟عمران خاں کی حمایت پر کئی بار معافی مانگی ۔ایک بار پھر مانگتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ زرداری صاحب یا میاں صاحب سے امید وابستہ کر لی جائے ۔
اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور نہ اپوزیشن، اخبار نویس کو خلق خدا کے لیے کام کرنا چاہئے ۔ اللہ ہمیں معاف کرے اور آئندہ حسن عمل کی توفیق۔انہوں نے کہا کہ عمران خاں کی حمایت پرکئی بار معافی مانگی ۔ایک بار پھر مانگتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ زرداری صاحب یا میاں صاحب سے امید وابستہ کرلی جائے۔ اسٹیبلشمنٹ، حکومت اور نہ اپوزیشن، اخبار نویس کو خلق خدا کے لیے کام کرنا چاہئے۔اللہ ہمیں معاف کرے اور آئندہ حسن عمل کی توفیق۔عمران خان کے حامیوں نے آج جی بھر کے گالیاں دیں۔ اللہ انہیں خوش رکھے ۔۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کے کسی اچھے فیصلے کی کبھی مخالفت نہیں کی۔ اختلاف ہے بغض وعنا د نہیں۔ البتہ کچھ زیادہ امید اب اس سے وابستہ نہیں اور وجوہات واضح۔ ہم دلیل دے سکتے ہیں، گالی نہیں ۔ یہ روش آپ کو مبارک ہو۔ عمران خان کے حامیوں نے آج جی بھر کے گالیاں دیں۔ اللہ انہیں خوش رکھے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس کے کسی اچھے فیصلے کی کبھی مخالفت نہیں کی۔ اختلاف ہے بغض وعناد نہیں۔ البتہ کچھ زیادہ امید اب اس سے وابستہ نہیں اور وجوہات واضح۔ ہم دلیل دے سکتے ہیں، گالی نہیں۔ یہ روش آپ کو مبارک ہو۔ انہوں نے کہا کہ عمران خاں اور اس کے حامیوں کی انتقامی روش کا نتیجہ کیا ہو گا؟ ظاہر ہے ان کا انجام ماضی کے حکمرانوں سے مختلف نہیں ہو گا۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے یہ کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ سب سے حیرت انگیز یہ کہ دلیل کے جواب میں ادھر سے ہمیشہ گالی آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں