69

چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، فواد چوہدری


وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، چیف الیکشن کمشنر چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے آلۂ کار نہ بنیں۔

اسلام آباد میں بابر اعوان اور اعظم سواتی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ، سابق وزیراعظم نواز شریف سے قریبی رابطے میں رہے ہیں اور ان سے ہمدردی بھی رکھتے ہیں لیکن ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ آج بھی سینیٹ اجلاس میں الیکشن کمیشن کا رویہ پارلیمنٹ سے ٹکرانے کے مترادف تھا، کوئی بھی ادارہ ہو اسے پارلیمان کو مان کر چلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن انتخابی اصلاحات پر اعتراضات ہے تو وہ متعلقہ فورم پر معاملہ اٹھائے، میڈیا میڈیا کھیلنا بند کردے، اگر الیکشن کمشنر کو سیاست کا شوق ہے تو وہ سیاسی میدان میں آجائیں یہ ان کا حق ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان پاکستان کا سب سے مقبول لیڈر اور تحریک انصاف سب سے زیادہ ووٹ لینے والی جماعت ہے، اگر ہمیں ان پر اعتماد نہیں تو وہ الیکشن کیسے کریں گے۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ میشن پر الیکشن کمیشن کے اعتراضات بھی احمقانہ ہیں، اگر معاملے کو سیاست کیلئے استعمال کرو گے تو پھرجواب بھی آئے گا۔رہنماء تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ 2013ء الیکشن کے بعد 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا تھا مگر اس پر کسی نے غور نہیں کیا، جس کے نتیجے میں ایک بڑی سیاسی تحریک کا آغاز ہوا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ 2018ء الیکشن میں عوام نے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا تھا اور ہمارے پارٹی منشور میں الیکشن اصلاحات اور شفاف الیکشن شامل ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ واحد حکومت ہے جس نے یہ بیڑہ اٹھایا اور دنیا بھر کے الیکشن سسٹمز کا جائزہ لے کر آزادانہ الیکشن کیلئے تجاویز پیش کیں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کوئی بھی سیاسی پارٹی موجودہ نظام الیکشن سے مطمئن نہیں ہے، جہاں جہاں اپوزیشن الیکشن ہارتی ہے وہاں وہ کہتے ہیں دھاندلی ہوئی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ آئین میں لکھا ہے کہ انتخابات قانون کے مطابق ہوں گے، عوام کی اصل آواز پارلیمنٹ ہے لہٰذا الیکشن کمیشن کا یہ مؤقف غیر منطقی ہے کہ پارلیمان کو حق نہیں ہے کہ نظام کیا ہوگا۔واد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے معاملے پر اپوزیشن کو بھی مذاکرات کی دعوت دی تھی مگر وہ سوچنے سمجھنے سے قاصر ہیں اور ان کی توجہ صرف اپنے کیسز پر مرکوز ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں بونوں پر مشتمل ہیں جو آج کل خود ہی ایک دوسرے کو ایکسپوز کررہی ہیں۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کا کہنا تھا کہ اليکٹرانک ووٹنگ مشين کا معاملہ پارليمنٹ کے مشترکہ اجلاس ميں اُٹھانے کا فيصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن  نے 8 ماہ میں انتخابی اصلاحات پر کوئی عملی پیشرفت نہیںوقارعالم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں