718

اسلام میں گداگری کی مذمت…. تحریر انعام اللہ جان بریکوٹ سوات

اسلام میں گداگری کی مذمت:
دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔جس نے انسانی زندگی کے ہر پہلوکو مدنظر رکھا ہے۔اور ہر اس چیز یا کام سے منع فرمایا ہے۔جس سے انسان اور انسانیت کی تدلیل ہوتی ہے۔
اس طرح گداگرکو بھی اسلام میں نا پسند قراردیا ہے۔اور مذید وضاحت کے لئے میں چند احادیث کا حوالہ دینا ضروری سمجھتاہوں۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے۔ (ترجمہ)اوپر والے کا ہاتھ نیچے ہاتھ والے سے بہتر ہے۔ اُوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والا ہے اور نچلا ہاتھ مانگنے والا ہےاو ر مسلم شریف میں ا یک ا ور حدیث ہے۔جس میں ارشاد نبویﷺ ہے۔ جس نے لوگوں سے اُن کا مال زیادہ جمع کرنے کی نیت سے مانگا وہ اگ کے انگارے مانگ رہا ہے۔ چاہئے کم مانگے یا زیادہ۔روایت ہے کہ عمرؓ نے ایک سائل کی آواز سنی اور یہ سمجھ کر کے بھوکا ہے،اس کوکھانا کھلانے کا حکم دیا، تھوڑی دیر میں اس کی آواز پھرسنائی دی۔معلوم ہو ا کے یہ وہی سائل ہے۔اور کھانا کھانے کے بعد پھر مانگتاہے۔آپؓ نے اس کو بلوایا اور دیکھا کے اس کی جھولی روٹیوں سے بھری ہوئی ہے۔ آپؓ نے جھولی کا ایک سرا پکڑ کر اس کو اونٹوں کے اگے چھاڑ دیا اور فرمایا:”توسائل نہیں تاجر ہے ”مندرجہ بالا احادیث اور روایت سے اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ کہ اسلام کس قدر بھیک کو نا پسند یدہ فعل قراردیتاہے۔اسلام ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا،وہ محنت مزدوری کرکے کمانے پر زور دیتا ہے۔اسلئے ہمیں چاہئے کے ہم بھیک مانگنے سے پرہیز کرئے۔ انعام اللہ جان بریکوٹ سوات

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں