688

بریکوٹ پریس کلب اور بازیرہ میڈیا نیٹ ورک کا پختونوں کا مذاق اڑانے والے پروگرام کو نشر کرنے پر پاکستان ٹیلی وڑن کیخلاف پر امن احتجاجی مظاہرہ

بریکوٹ پریس کلب اور بازیرہ میڈیا نیٹ ورک کیساتھ سول سوسائٹی ،سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سمیت منتخب بلدیاتی نمائیدوں نے مل کر پختونوں کا مذاق اڑانے والے پروگرام کو نشر کرنے پر پاکستان ٹیلی وڑن کیخلاف پر امن احتجاجی مظاہرہ کیا ، اور نعرہ بای کی ،مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بریکوٹ پریس کلب کے چیرمین ڈاکٹر ذاکرمحمد،انجنئر شرافت علی خان ،پی پی پی کی رہنما شہزاد خان ،اے این پی کے رہنما اور تحصل کونسلر فضل اکبر خان ،ال ناظمین کے چیرمین میا ں فضل ودود باچا ،سماجی کارکن فضل احد لالاجی ،عبد الوارث خان ،نصیب زادہ سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی چینل پی ٹی وی پر پختونوں کا مذاق اڑانے والے پروگرام نشر کرناقابل مذمت ہے ، پختونوں کو دہشت گرد ،سمگلر اور انتہا پسند کہنا حما قت سے کم نہیں پختون اتنی عظیم قوم ہے کہ اس کے نام سے میزائیل بنتے ہیں ، ہنگامی بنیادووں پر اس کی تحقیقات کی جائے اور قرار وقعی سزا دی جائے، سرکاری ٹیلی ویڑن پر ڈراموں اور دیگر پروگراموں میں عرصہ دراز سے پختونوں کو تضحیک کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،پختونوں کے مذاق اڑانے والے پروگرام کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پرپاکستان ٹیلی وڑن انتظامیہ اورجواد حسن کیخلاف سخت کاروائی کی جائے ،انہوںنے کہاکہ قومی چینل پر تعصب پھیلانے والے پروگرامات نشر کرنا انتشار پھیلانا ہے ،سرکاری چینل پر اس قسم کی افسوسناک پروگرامات چلانا پختونوں قوم کی تذلیل ہے ،اس پروگرام میں شامل اور چلانے والے تمام اہلکاروں کیخلاف سخت کارروائی کرکے ملازمت سے برطرف کرنا چاہیے، پختون قوم عزت دار قوم ہے اور اپنی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا ،پختونوں نے ہمیشہ دوسری قوموں کی عزت کی ہے پختونوں قوم کو دہشتگرد کہنا کسی صورت قبول نہیں ،مقررین نے ستارہ ایاز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پختونوں نی عزت رکھتے ہوئے تحریک التوا جمع کی ہے شرکاءنے کہاکہ حکومت اس طرح کے اقدامات کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات کرے اور اگر یہ رویہ پختونوں کیساتھ جاری رکھا گیا تو سب کو بھاری پڑیگا ، پختون اپنی دفاع کرنا جانتا ہے ۔۔مظاہرین نے خبر دار کیا اگر حکومت نے فوری طور پرپی ٹی وی انتظامیہ اور جواد حسن کو برطرف نہ کیا اور ٹیلی ویژن سمیت اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے معافی نہیں مانگی تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائینگے۔ بریکوٹ ( ظاہر شاہ کمال )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں