976

حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے

حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ،کم عمر اور معصوم بچے محنت مزدوری کرکے پیٹ پالنے پر مجبور ہیں
بریکوٹ میں چائلڈ لیبرکی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہر دوکان اور مستری خانوں میں غریب اور نادار بچے تعلیم چھوڑ کر اپنا پیٹ پالنے کے لئے کا کرتے ہیں اور اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہیں۔حکومت کے لئے لمحہ فکریہ۔
رپورٹ کے مطابق :بریکوٹ میںدرجنوں کی تعداد میں بچے چائلڈ لیبر سے منسلک ہیں، یہ کم سن بچے ہر شعبہ زندگی میں محنت مزدوری کرتے دکھائی دیتے ہیں، چینو گان ،گل اباد اور متعدد ورکشاپس پر کام کرنیوالے بچوں کا بھی سکول جانے کو دل کرتا ہے، حکمرانوں کا چائلڈ لیبر کنڑول کرنے کیلئے کوئی اقدام منظر عام پر نہیں آیا، حکمرانوں نے کبھی اس توجہ دیاہی نہیں اگر دیا بھی ہے تو صر ف فوٹو سیشن تک محدود ہے، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان چائلڈ لیبر رکھنے والے ممالک کی فہرست میں نویں نمبر تک پہنچ گیا ہے اور مذید بڑھتا جا رہا ہے۔ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے حالات کار سب سے ب±رے ہیں جن پر شدید تشدد کیا جاتا ہے مگر اج تک کسی اِن کی پرواہ نہیںہے ، ضلع سوات میں پابندی کے باوجود بچے محنت مزدوری کرتے ہیں، اینٹوں کے بھٹوں اور کھیتوں جبکہ شہروں میں سڑکوں اور ورکشاپوں پر معصوم بچوں سے مشقت کرائی جاتی ہے، ، محکمہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کم عمر بھکاری، خاکروب، فیکٹریوں اور کارخانوں میں مزدوری کرنے والے 70 فیصد سے زائد بچے ہپاٹائٹس اے، بی اور سی جیسے وائرس میں مبتلا ہیں، رپورٹ کے مطابق والدین کمسن بچوں کو سڑکوں، بازاروں اور فیکٹریوں میں مزدوری کرنے کے لئے بھیج دیتے ہیں یہ بچے فیکٹریوں اور کارخانوں کے دھوئیں، گندے پانی اور فضلات کی وجہ سے بیماریوں کا تیزی سے شکار ہوتے جا رہے ہیں، چائلڈ پروٹیکشن حکام کا کہنا ہے کہ گندے پانی، فضلات، زہریلے مواد اور کوڑے دانوں میں سے گلی سڑی چیزیں کھانے کی وجہ سے بچوں میں ان بیماریوں کی علامات موجود ہیں ۔ یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ بچے کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایا ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قوم کی ان سے کافی امیدیں وابستہ رہتی ہیں مگر سوال یہ اٹھاتاہے کہ کیا آج مشقت والی جگہوں پر پلنے بڑھنے والے بچے کل قوم کی امنگوں کی صحیح معنوں میں ترجمانی کرسکیںگے؟ہرگز نہیں ،غریب اورناداربچوں کی بہترتعلیم وتربیت کا انتظام کرنا حکومت کی ذمہ دارویوں میں شامل ہے مگر بدقسمتی سے حکومت نے خودکو اس ذمہ کو پورا کرنے سے مبراکردیا ہے،امرواقع یہ ہے کہ حکومت اور بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیمیں خواب غفلت سے اٹھ کر حقیقی معنوں میں ان بچوں کی تعلیم تربیت کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں اورانہیں روشن مستقبل دیں تاکہ وہ کل ملک وقوم کی تعمیراورترقی میں کرداراداکرسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں