147

حکومت نے مساجد میں اعتکاف پر کوئی پابندی عائد نہیں کی…حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے واضح کیا ہے کہ حکومت نے مساجد میں اعتکاف پر کوئی پابندی عائد نہیں کی، معتکفین میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے اینٹی کورونا ایس او پیز جاری کئے ہیں۔ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعتکاف پر پابندی کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ الوداع کو یوم دعا کے طور پر منایا جائے گا تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف اللہ تعالیٰ سے توبہ اور مغفرت کی دعا کی جا سکے۔انہوں نے پیش اماموں پر بھی زور دیا کہ وہ مساجد میں نماز کی ادائیگی کے دوران نمازیوں کو اینٹی کووڈ ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کریں۔ کونسل کے اجلاس میں علما کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس موذی وائرس سے بچنے کے لئے ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ مساجد میں مناسب جسمانی فاصلے کو یقینی بنانا چاہیے کیونکہ اس بارے میں مذہبی رہنماؤں نے اتفاق رائے سے حکم نامہ جاری کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران عرب ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ او آئی سی نے حال ہی میں پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے اسلاموفوبیا کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے جبکہ اقوام متحدہ میں بھی اسی طرح کی ایک قرارداد پیش کرنے پر کام جاری ہے۔موجودہ حکومت کی اسلامو فوبیا پر قابو پانے کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے مغرب سے اسلامو فوبیا کے خاتمے کے حوالے سے دنیا بھر کے 100 سے زائد مسلمان پارلیمنٹیرینز کو خطوط لکھے ہیں۔ توہین مذہب اور اسلاموفوبیا کے خلاف وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ بیشتر مسلمان ممالک نے ان دونوں معاملات پر پاکستان کے موقف کی حمایت کرنا شروع کر دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، ایران اور ترکی عالمی سطح پر اسلاموفوبیا اور مذہب کی توہین پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فرانس میں توہین رسالت ﷺ کے خلاف عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کے حوالے سے مصر کے شیخ الازہر کے فیصلے کی توثیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان رمضان المبارک کے اختتام سے قبل سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عیدالفطر کے بعد پاک عرب فورم کا ایک اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں