745

خیبر پختونخوا کو سی پیک میں ان کا جائز حق نہ دینے کا نتیجے میں نواز شریف کو پختونوں کی بد دعائیں لگ گئیں

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری و سابق وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ سی پیک پر اے این پی کا موقف بالکل واضح ہے خیبر پختونخوا کو سی پیک میں ان کا جائز حق نہ دینے کا نتیجے میں نواز شریف کو پختونوں کی بد دعائیں لگ گئیں ، پنجاب کی ترقی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن خیبر پختونخوا کو ترقی کے دھارے سے نکالنا برداشت نہیں کرینگے پختونوں کے حقوق کے حصول پر سودا بازی نہیں کرینگے ، حقوق کے حصول کیلئے آخری دم تک لڑیں گے ، کسی کو خیبر پختونخوا کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ،، سی پیک کے حوالے سے نواز شریف پختونوں کو دھوکے میں رکھنے کی کوشش کر رہے تھے جن کو پختونوں کی بد دعا لگ گئی اور وہ اقتدار سے الگ ہو گئے ، عمران خان پختونخوا کے مسائل حل نہیں کر سکتے اور وہ وزیراعظم کی کرسی تک جانا چاہتے ہیں خیبر پختونخوا حکومت ناکام ترین حکومت ہے جس میں چار بجٹ کے پیسے واپس ہوئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا جو حق بنتا ہے وہ بھی موجود ہ حکومت لانے میں ناکام رہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کبل میں حاجی شاہی روم خان کی رہائش گاہ پر ایک شمولیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے سلطان روم ،ملک روف خان ، ریاض خان ، سردار الملک ، عثمان غنی ڈاگئی ، پائی محمد ، غلام سبحانی سمیت درجنوں افراد اے این پی میں شامل ہو گئے ، جلسہ سے عوامی نیشنل پارٹی سوات کے صدر شیر شاہ خان ، صوبائی نائب صدر محمد ایوب خان ، ضلعی جنرل سیکرٹری رحمت علی خان ، مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری واجد علی خان ، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری خان نواب ، ذہین خان ، شوکت خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کو خیبر پختونخوا اور پختونوں کے حقوق کے حصول کا جنگ لڑنے کا اعزاز حاصل ہے ہم نے مردانہ وار جنگ لڑ کر پختونوں کے حقوق کے حصول کو یقینی بنایا اور اب کسی کو ان حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی انہوں نے کہا کہ سی پیک پر عوامی نیشنل پارٹی کا موقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے ہم سی پیک میں پنجاب کی ترقی کے خلاف نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کی ترقی کا راستہ بند کرنے کی اجازت نہیں دینگے اور جب نواز شریف کا ارادہ کچھ یوں تھا تو ان کو پختونوں کی بد دعائیں لگ گئیں اور وہ اقتدار سے الگ ہو چکے ہیں گزشتہ الیکشن میں ہم ہارے نہیں بلکہ ہرایا گیا ہمیں الیکشن میں ڈرایا دھمکایا گیا ہم اپنی جماعت کے شہید اُٹھا رہے تھے دیگر جماعتیں ووٹ مانگ رہی تھی انہوں نے کہا کہ ہم گالی گلوچ کی سیاست پریقین نہیں رکھتے سیاست میں شائستگی کے قائل ہیں اور نظریات اور دلیل کی بنیاد پر سیاست کر رہے ہیں قبائل کو خیبر پختونخوا میں شامل ہونے پر سیاسی جماعتیں متفق ہیں لیکن بعض قوتیں پختون قوم کو متحد کرنا نہیں چاہتی قبائل کے نام پر امداد مرکزی حکومت غصب کرنا چاہتے ہیں قبائل کو خیبر پختونخوا کا حصہ قرا دیا جائے عمران خان پختونخوا کے مسائل حل نہیں کر سکتے اور وہ وزیراعظم کی کرسی تک جانا چاہتے ہیں خیبر پختونخوا حکومت ناکام ترین حکومت ہے جس میں چار بجٹ کے پیسے واپس ہوئے این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کا جو حق بنتا ہے وہ بھی موجود ہ حکومت لانے میں ناکام رہی ہے انہوں نے کہا کہ میٹرک رزلٹ میں سرکاری تعلیمی اداروں کا پول کھل گیا اور موجودہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے سے پردہ چاک ہو گیا صحت اور تعلیم کی ایمرجنسی عوام دیکھ چکی ہے پی ٹی آئی سوشل میڈیا پارٹی بن چکی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں