918

سوات ادبی سانگہ کی نئی کابینہ کا سال کی ابتداءپر ( خیگڑہ ) کے عوان سے مشاعرے کا انعقاد

سوات ادبی سانگہ کی نئی کابینہ کا سال کی ابتداءپر ( خیگڑہ ) کے عوان سے مشاعرے کا انعقاد ، مشاعرہ میں شعراءنے اپنے اپنے کلام پیش کرکے شرکاءسے داد وصول کیا ، گزشتہ روز کو رحیم شاہ لالا کے حجرے رحیم اباد مینگورہ میں ”خیر خیگڑہ “ تنظیم اور” سوات ادبی سانگہ “ کی شراکت سے ایک زبردست موضوعاتی مشاعرہ ہوا ۔خیگڑہ کے عنوان سے اِس مشاعرے میں سوات بھر کے شعراءنے بھر پور شرکت کی۔ پرگروم کے صدارت معروف سماجی شخصیت حیدر علی شاہ باچا نے کی مہمان خصوصی کے کرسی پر مولانا صدیق احمد براجمان تھے ۔جبکہ سوات ادبی سانگہ کے صدر جناب روح الامین نایاب ،پروفیسر عطاءالرحمن عطا© اور اشرف مفتون کے بیٹے فریدون کو اعزازی مہمان کے طور پر طلب کیا گیا تھا۔سوات ادبی سانگہ کے نو منتخب جنرل سیکرٹری اور سوات کے ہر دلعزیز رومانوی شاعر جناب سمیع اللہ گران پروگرام کے سٹیج سیکرٹری تھے۔جنہوں نے پہلی ہی پروگرام کو رنگین اور کامیاب بنا کر بہت سوںکو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔پروگرام کے ابتداءکلمات سے ہوئی ۔جس میں بتایا گیا کہ یہ تنظیم ایک غیر سیاسی اور خالصتاََ خدمت خلق کے لئے بنائی گئی ہے۔تنظیم کے فنانس سیکرٹری مولونا سید الرحمن نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کے موضوع پر تقریر کی ۔ بعد ازاں طاہرخان اکانے خیگڑہ کے عنوان سے ایک بہترین غزل مسلسل سنا کر سامعین سے بھر پور داد وصول کی ان کی بعد فرید اللہ ،نور حسین خادم ،سکندر حیات کسکر اور فضل واحد منگلوری نے اپنے اپنے کلام میں موضوع کے ساتھ کے بھر پور انصاف کیا۔ان کے بعد پروفیسر عطاءالرحمن عطا کو طلب کیا گیا انہوں نے فرمایا کہ انجمن پنجاب والے موضوعاتی مشاعرے کیا کرتے تھے ۔سوات ادبی سانگہ نے مناظمہ تحریک چلا کر ایک خوش آئندہ قدم اٹھا یا ہے۔انہوں نے عنوان پر بہترین معراءنظم سنا کر سامعین سے بھر پور دادبھی وصول کی۔بعد ازا ں ترنم کے شہنشاہ ندیم چراغ نے موضوع پر نظم سنا کر سماں ہی تو باندھ دیا ۔ان کے بعد مولونا خان محمد ،فضل ربی پختون ےا ر ،انور عاطر،حمزہ علی شاہ باچا© ،فیض علی فیض ،بخت محمد بخت ،شیر شاہ ابشار ،عادل تنہا، شیرین،الحاج زاہد خان ،مولانا صدیق احمد،فضل محمود روخان ،عبد العلی اشنا،اور روح الانایاب نے نظم و نثر میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اتنے میں نماز اور کھانے کا وقفہ کیا گیا۔تمام شرکاءکی پرُ تکلیف کھانے سے ضیافت کی گئی ۔ وقفے کے بعد سیر اج الدین سیراج ،بخت زمین زمین،محمد گل منصور ،امجد علی حسرت ،شمس اقبال شمس ،روزی خان لیونے ،طارق سائل ،جوان بخت اسیر، ابراھیم شاہ صابر،پیر اکبر بلند ،سمندر سواتے،قیوم مجبور،افضل خان محمد زئی،ڈاکٹر طاہر بوستان خیل اور فریدون کو دعوت دی گئی۔تمام شعراء ادباءاور صحافت سے وابستہ حضرات فضل خالق فضل ، نیاز احمد خان ،فضل ربی پختون یار اور معروف کالم نگار تصدیق اقبال بابوکو ایورڈ سے نوزا گیا ،اخر میں روح الانایاب نے قررداد پیش کی جس میں تمام اہل قلم کو” سوات ادبی سانگہ“ کے ساتھ ”خیر خیگڑہ “ تنظیم میں شمولیت کی دعوت دی گئی۔لوگوں نے شمولیت کے فارم بھرے ۔اخر میں حیدر علی شاہ باچا نے اپنے احتتامی خطبے میں فرمایا کہ انسان فانی ہے انسانیت کے خدمت ہی میں کاملیت ہے۔یوں صبح 10 بجے سے شروع ہونے والا یہ دلچسپ پروگرام عصر کے اذان پہ اختتا م پزیر ہوا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں