704

سوات مین شاہراہ کے تعمیر کے لئے این ایچ اے کے غفلت کے باعث کام تعطل کا شکار رہا

بریکوٹ: سوات مین شاہراہ کے تعمیر کے لئے این ایچ اے کے غفلت کے باعث کام تعطل کا شکار رہا ۔اگست 2017سے شاہراہ پر ٹھیکیدار نے کام شروع کیا ہے اور ذرائع کے مطابق ابھی تک 65کروڑ روپے خرچ ہوئے مگر این ایچ اے کے پراجیکٹ ڈائر یکٹر کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ٹھیکیدار کا ایک بل بھی پاس نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے مین شاہراہ دس ماہ میں پانچ کلو میٹر پر بلیک ٹاپ نہیں ہوا ہے ۔گردوغبار کی وجہ سے علاقے میں مختلف بیماریاں عام ہوگئیں جبکہ نئی گاڑیاں کٹھارہ بن گئیں ۔جگہ جگہ کرش اور روڈ کے عین وسط میں لکیروں کی وجہ سے مریض بروقت نہ پہنچانے کی وجہ سے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔علاقے کے سماجی حلقوں نے پی ڈی این ایچ اے سوات کے خلاف غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ پی ڈی این ایچ اے سوات کو ضلع بدر کیا جائے ۔تفصیلات کے مطابق مین شاہراہ سوات پر گذشتہ دس ماہ سے تعمیراتی کا م جاری ہے ۔ٹھیکیدار نے ابھی تک تقریباً 65کروڑ روپے خرچ کئے مگر پی ڈی ظاہر خان کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ایک بل پاس نہ ہونے کی وجہ سے تعمیراتی کام تعطل کا شکارہے ۔دس ماہ سے روڈ پر گرد وغبار کی وجہ سے علاقے کے عوام سینے،سانس کے علاوہ دیگر بیماریوں میں بڑی تعداد میں متاثر ہوچکے ہیں ۔پی ڈی این ایچ اے سوات نے ابھی تک روڈ کی تعمیر کا دورہ بھی نہیں کیا ہے کہ روڈ پر کس طرح کام جاری ہے اور نہ انہوں نے ابھی تک اپنے لئے دفتر کا قیام بھی عمل میں نہیں لایا ہے ۔موبائیل پر رابطہ کرنے پر بھی رابطہ نہیں کرتے ہیں ۔سواتی عوام کے لئے پی ڈی این ایچ اے سوات کی وجہ سے مین شاہراہ کا تعمیراتی کا عذاب بن گیا ہے۔پی ڈی این ایچ اے سوات کے خلاف کنزیومر کورٹ میں کسسیز درج کئے گئے ہیں اور مزید بھی درج ہورہے ہیں ۔یہاں کے سماجی حلقوں نے وفاقی حکومت ،چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ مین شاہراہ سوات پر جلد ازجلد کام مکمل کیا جائے تاکہ یہاں کے لوگ سکھ کا سانس لے سکیں جبکہ یہاں کے سیاحت پر بھی منفی اثرات مرتب نہ ہوں کیونکہ سیاحت یہاں کے معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں