129

سیاسی فیصلوں کا اختیار جہانگیر ترین کو:ارکان سے وفا داری حلف

ترین گروپ کے صوبائی وزراء اور ارکان اسمبلی نے سیاسی فیصلوں کا اختیار جہانگیر خان ترین کو دیدیا۔ ‘اراکین اسمبلی سے گروپ میں شامل رہنے کے لیے عہد و پیام بھی لے لیا۔ ترین گروپ نے قومی اسمبلی میں راجہ ریاض احمد اور پنجاب اسمبلی میں سعید اکبر نوانی کو پار لیمانی لیڈر بھی بنا دیا۔ ‘ایم پی اے سلمان نعیم نے پنجاب اسمبلی میں باقاعدہ ترین گروپ کی جانب سے پاور شو کرنے کا بھی اعلان کر دیا۔’ ترین گروپ نے سینیٹر علی ظفر کی رپورٹ کے بعد بجٹ میں حکومت کو ووٹ دینے یا نہ دینے کے حوالے سے منصوبہ بندی کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی لیڈر تو قومی اور صوبائی اسمبلی پنجاب میں بنا دئے گئے ہیں۔ کیا عمران خان ان پارلیمانی لیڈرز کو قبول کریں گے یا نہیں۔ یا اس اقدام کا مقصد عمران خان سے ریلیف لینا ہے۔ ان سوالات نے نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ترین گروپ کا دعوی ہے کہ ان کے ممبران کی تعداد کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی ہے۔ منگل کے روز لاہور میں جہانگیر خان ترین کی رہائش گاہ پر ہونیوالے اجلاس میں ترین گروپ کے ایم این اے راجہ ریاض احمد ‘صوبائی وزراء نعمان لنگڑیال ‘اسلم بھروانہ ‘ایم پی اے امین چوہدری ‘نذیر چوہان اور عون چوہدری سمیت دیگر بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کی مکمل انصاف کی فراہمی کی یقینی دہانی کے بعد ہونیوالی پیش رفت اور آئندہ کی حکمت عملی کے حوالے سے مشاورت کی گئی۔ اس موقعہ پر تمام شرکاء نے جہانگیر خان ترین کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ جبکہ مشاورت کے ساتھ قومی اور صوبائی اسمبلی میں اتحادی ارکان کو متحد رکھنے کے لیے پار لیمانی لیڈرز کا بھی غیر اعلانیہ فیصلہ ہوچکا ہے۔ نذیر چوہان نے کہا کہ جب ہم پر ترین گروپ کا لیبل لگ چکا ہے تو ہمیں فیصلے بھی جہانگیر خان ترین کی قیادت میں ہی کرنے ہیں۔ جبکہ راجہ ریاض احمد نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ وزیراعظم عمران خان وعدے کے مطابق انصاف کی فراہمی کا وعدہ بھی پورا کر یں گے۔ ایم پی اے سلمان نعیم نے کہا کہ آج کے اجلاس میں کوئی نیا رکن اسمبلی شامل نہیں ہوا ہم سب متحد ہیں اور پنجاب اسمبلی میں جمعہ کے روز اپنی پاور بھی شوکر یں گے جبکہ جہانگیر خان ترین نے تمام ساتھیوں کا شکر یہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت سے کسی قسم کی رعایت نہیں صرف اور صرف انصاف کی فراہمی اور بعض لوگوں کی جانب سے پیدا کی جانیوالی رکاوٹوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ عشائیہ میں ایم این اے راجہ ریاض، صوبائی وزیر نعمان لنگڑیال، اسلم بھروانہ، عون چوہدری، امین چوہدری، ایم پی اے نذیر چوہان، اسحاق خاکوانی، سلیم اختر، فیصل حیات، صوبائی وزیر اجمل چیمہ‘ ایم این اے خواجہ شیراز‘ ایم پی اے سجاد وڑائچ اور خرم لغاری‘ ایم پی اے عمر آفتاب ڈھلوں اور جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین لودھراں سے لاہور پہنچے۔ اجلاس میں شاہ محمود کے بیان پر ارکان نے شدید ردعمل دیا اور کہا کہ وزیر خارجہ کو ایسا بیان نہیں دینا چاہیئے تھا۔ راجہ ریاض نے خطاب میں ایف آئی اے رپورٹ کے انتظار کا مشورہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کی سربراہی میں سیاسی فیصلے بھی لینے ہیں۔ حکومتی معاملات ٹھیک ہونے کی بجائے خراب ہو رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں