949

عوام کو اس وقت الگ ضلع بنانے سے زیادہ بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے.ناظم سوات محمد علی شاہ

اپر سوات کو الگ ضلع بنانے کے معاملے پر ضلع کونسل سوات کا ہنگامی اجلاس سوات پریس کلب مینگورہ میں سپیکر عبدالجبار خان کی صدارت میں منعقد ہوا ، اجلاس میں ضلع ناظم محمد علی شاہ ضلع کونسل سوات کے مردو خواتین ممبران نے شرکت کی ، اجلاس میں تحصیل ناظم بحرین حبیب اللہ ثاقب نے بھی شرکت کی ، اجلاس میں ون پوائنٹ ایجنڈے پر بحث کی گئی ضلع کونسل سوات کے ممبران نے اپر سوات کو الگ ضلع بنانے کے معاملے پر گرما گرم بحث کی ، جبکہ اجلاس میں ممبران نے دلائل کے ساتھ اپنا اپنا موقف پیش کیا ، ضلع ناظم سوات محمد علی شاہ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ عوام کو اس وقت الگ ضلع بنانے سے زیادہ بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے ، ضلع کو دوحصوں میں تقسیم کرنے کے بجائے عوام کو تمام بنیادی ضروریات اور سہولیات فراہم کیاجائے ، ضلع کونسلر راحت علی نے الگ ضلع بنانے کی مخالفت کردی ، محبوب علی خان الگ ضلع کی مخالفت کرتے ہوئے سوات کو ڈویژن کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ، فضل معبود نے کہاکہ پشاور اور مردان کی آبادی کے لحاظ سے بڑے اضلاع ہیں ، اس کو کیوں مزید اضلاع میں تقسیم نہیں کیاجارہا ، فی الحال یہ مطالبہ غیر مناسب ہے ، پاس بی بی نے بھی الگ ضلع بنانے کی مخالفت کردی ، زیب سیر خان نے اپر سوات کو الگ ضلع بنانے کی حمایت کردی ،اور اپر سوات کو ضلع کا درجہ دینا وقت کی ضرورت قرار دیا ، قجیر خان الگ ضلع بنانے کیلئے پہلے ماحول بنانے کامطالبہ کیا اور اس کو عوام کی رائے سے مشروط کردیا ، جانان نے ضلع بنانے کے حق میحں دلائل دیے ، آصف شہزاد نے دلائل دیتے ہوئے اپر سوات کو الگ ضلع بنانے کا مطالبہ کیا ، حیدر علی خان نے اپر سوات کو ضلع بنانے کے حوالے سے عوامی رائے لینے کامطالبہ کیا، عبدالمالک نے ضلع بنانے سے قبل فنڈ فراہم کرنے او ر عوام کو رائے میں شامل کرنے اور بعد میں کوئی فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا ، ابن امین نے الگ ضلع بنانے کو عوام کو تقسیم کرنے کے مترادف قرار دیا ، ابرار خان نے الگ ضلع بنانے کی بھرپور مخالفت کردی ، اور کہاکہ یہ مسئلہ ڈاکٹر حیدر اور محمود خان نے اٹھایا ہوا ہے ملک حسن نے کہاکہ یہ ایک سازش ہے ، انہوں نے بھرپور مخالفت کردی، بخت ناز نے بھی مخالفت کردی، میاں شاہد علی نے بھی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ یہ وقت الکگ ضلع بنانے کا نہیں اور عوامی رائے لینے کامطالبہ کیا ، سراج خان نے بھی الگ ضلع بنانے کی مخالفت کردی ، ملک اقبال نے الگ ضلع بنانے کی حمایت کرتے ہوئے اسے وقت کی ضرورت قرار دیا ، ثناء اللہ فاروقی نے طویل دلائل دیتے ہوئے الگ ضلع بنانے کامطالبہ کیا ، رفیق الرحمان ، شوکت علی خان ، ضیاء الحق نے الگ ضلع بنانے کامطالبہ کیا اورکہاکہ اپر سوات کے لوگوں کے اس مطالبے کو منظور کیاجائے ، شجاعت علی خان بھی حمایت کرتے ہوئے کہاکہ مخصوص طبقہ اس کی مخالفت کررہی ہے ، فضل رحمان نے کہاکہ پہلے سوات کی حالت درست کی جائے اور بعد میں الگ ضلع کے قیام عمل میں لایاجائے ، صوبائی وزیر محب اللہ کے بھائی ضلع کونسلر حبیب اللہ نے الگ ضلع کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ یہ مناسب نہیں ہے عوام نے وزیراعلیٰ کے جلسہ کے دوران اس کی مخالفت کی ہے جو عوامی ریفرنڈم ہے ، آفرین خان نے بھی مخالفت کردی ، جبکہ عطاء اللہ نے مشروط حمایت کرتے ہوئے کہاکہ اگر پہلے حلقے کو وسائل فراہم کردی جائے اور بعد میں عوامی رائے لیکر اس پر فیصلہ کیاجائے ، عرفان چٹان نے کہاکہ اپر سوات کے عوامی نمائندوں سے رائے لیاجائے ، اگر صرف اعلان کیاجاتا ہے اور عوامی مسائل میں گرجاتے ہیں تو یہ زیادتی ہوگی کیونکہ اس ضلع میں بھی ہسپتالوں کی حالت خراب ہے ، سرور خان نے بھی بھرپور مخالفت کردی ، جبکہ زیادہ تر ممبران نے اس حوالے سے عوامی ریفرنڈم کا بھی مطالبہ کیا ہے ، ضلع ناظم محمد علی شاہ نے کہاکہ پہلے وہ تمام بنیادی ضروریات اور سہولیات فراہم کئے جائیں جو ضلع کیلئے ضروری ہوتے ہیں بعد میں کوئی فیصلہ کیاجائے ، انہوں نے کہاکہ یہ ایک ایشو چل رہا ہے جس پر ہم نے اپنے ممبران کی رائے لینے کیلئے اجلاس طلب کیا ہے ، انہوں نے اگر صوبہ مالیاتی بحران میں نہ ہو تو پھر ضلع ممبران کو فنڈ فراہم کیاجائے ، اس وقت اپر سوات کو ضلع بنانے عوامی مسئلہ نہیں بلکہ عوام کوبنیادی ضروریات کی فراہمی اہم مسئلہ ہے ، نان ایشو کو ایشو بنایاجارہا ہے ، تاہم اس اہم مسئلے پرضلع کونسل کے ممبران بھی تقسیم ہوگئے تحریک انصاف کے اکثریتی ممبران نے حمایت جبکہ بعض نے مخالفت میں اپنا رائے دیدیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں