131

فر یقین سے دو قتل کے سنگین دشمنی دوستی میں بدل گئی

گوجر یوتھ فورم کے قائدین کے کوشش رنگ لے ائی ۔ فر یقین سے دو قتل کے سنگین دشمنی دوستی میں بدل گئی علاقے کے عوام نے گوجر یوتھ فورم تحصیل بریکوٹ کے قائدین ملک عالم زیب گوجر،ملک اعظم اختر خان ملک شیر گل خان ملک یوسف خان ملک عبدالغنی ملک شاہ جھان خان ملک عنایت خان کو شانداار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز بریکوٹ کے علاقہ حجرہ اصغر خان میں صلح کے ایک پر وقار تقریب منعقد ہوا ۔ فریق اول شیر علی گلدالی پسران قابل فریق دوم بختی روان ولد دورانے ساکن کاڈیار ناواگئی تحصیل بریکوٹ کے مابین تقریبا 20 دن قبل دونوں فریقین سے خواتین قتل ہو ئی تھیں ۔ جس پر گوجر یوتھ فورم تحصیل بریکوٹ کے قائدین نے دن رات ایک کر کے دونوں فریقین کو صلح کرنے پر امادہ کیا ۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز ایک صلح تقریب منعقد ہوا تقریب سے گوجر یوتھ فورم کے سینررہنما جلات حاجی صاحب گوجر یوتھ فورم ملاکنڈڈویثرن کے چیرمین ملک نسیم خان اف جندول دیر سیئنر وائس چیرمین گوجر یوتھ فورم پاکستان ملک رضا خان ایس ایچ او تھانہ غالیگے زاہدشاہ خان ، ایس ایچ ا و تھانہ شموزئی شہشناہ خان سابق ناظم کڑاکڑ عصمت اللہ گوجر سابق نائب ناظم ناواگئی واجد خان شلمانی ، سینئر وائس چیرمین ملاکنڈڈویثر ن عالم زیب خان گوجر ، اختر خان ،ملک نصب جان ، جنرل سیکرٹری لوئر سوات گوجر یوتھ فورم ملک اعظم اختر گوجر سرپرست اعلی تحصیل بریکوٹ ملک شیر گل شہزاد خان ملک ہادی خان ملک نصب جان دیگر نے تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے کہاکہ اج خوشی کا دن ہے کہ دوفریقین کے مابین صلح ہو کر دوشمنی دوستی میں بدل گئی ۔ لیکن اس قسم کے جو واقعات رونما ہو رہے ہیں جس کی اصل وجہ اسلامی تعلمات اور تعلیم کی کمی ہے ، انہوں نے کہا کہ علم ایک روشنی ہے اپنے بچوں پر تعلیم ہر صورت میں حاصل کر کے اپنے ملک و قوم کانام پوری دنیا میںروشن کر یں ، انہوں نے کہا کہ دوشمنی ایک عذاب الہی ہے اور شیطان کیلئے خوشی کا ایک موقع فراہم کرنا ہے ۔ انسان اللہ تعالی نے اشرف المخلوقات انتہا ئی خوبصورت انداز میں پیدا کیاہے ۔ تمام مسلمانوں کو چاہیئے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں اور معمولی معمولی باتوں کو نظرانداز کر کے ایک دوسرے پر رحم کریں کیونکہ تم زمین والوں پر رحم کر یں تم پر اسمان والا رحم کر یگا تقریب میں قائدین نے دونوں فریقین شیر علی ولد قابل اور بختی روان ولد دورانے کو ایک دوسرے کو فی اسبیل اللہ معاف کیااور سات ہی بغل گیر ہوکر صلح نامہ پر دستخط کیا ۔ فریقین کو صلح نامے میں اس بات کے پابند ہے کہ ائندہ کیلئے بھائیوں کی طرح زندگی گزاریں گے اور اگر کسی نے بھی معاہدے کے خلاف ورزی کی تو مبلغ 50 لاکھ روپے جرمانہ ادا کر یگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں