346

پرائیویٹ سکولوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے

ںریکوٹ پرائیویٹ سکولوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔حکومت دیگر اداروں کی طرح سکولوں کو بھی SOPsلے تحت کھولنے کے ساتھ اداروں کے مالی مشکلات کم کرنے کیلئے ریلیف پیکج کا اعلان کرے۔مطالبات نہیں مانے گئے تو احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالت کا راستہ اپنائینگے۔ان خیالات کا اظہار پرائیوٹ سکولز مینجمنٹ ایسوسیشن کے چیرمین عبدالجلیل خان نے کیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے حکم کی مطابق سکولز بند کر دئے گئے ہیں۔اور چار مہینے فیس نہ ملنے کی وجہ سے پرائیویٹ تعلیمی ادارے بلڈنگ کرایہ اور اساتذہ کے تنخواہوں کے صورت میں شدید مالی مشکلات کے شکار ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہمارے مالی مشکلات کو کم کرنے کیلئے خصوصی ریلیف پیکج کا اعلان کرے۔یا پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو بلا سود قرضے فراہم کرے تاکہ وہ ان قرضوں سے بلڈنگ کرایہ اور اساتذہ کے تنخواہوں کی ادائیگی کرے۔انہوں نے بتا یا کہ ایلیمنٹری ایجو کیشن فاؤنڈیشن اور فرنٹیئر ایجو کیشن فاؤنڈیشن کے پاس اربوں کا فنڈ مو جود ہے۔حکومت ان اداروں کے فنڈ سے بچوں کے گذشتہ چار ماہ کا فیس ادا کرے۔جس سے صوبہ بھر کے 24 لاکھ گھرانوں کے ساتھ ساتھ 2لاکھ ٹیچنگ و نان ٹیچنگ سٹاف کو ریلیف ملے گی۔انہوں نے EEFاورFEFکو PSRAمیں ضم کرنے اور ان کے فنڈز سے بچوں کی فیس ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ تمام مارکٹس،ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبے اگرSOPsکے تحت کھولے جا سکتے ہیں۔تو ضروری ہے۔کہ تعلیم دوستی کا ثبوت دیتے ہوئے بچوں کا قیمتی وقت بچانے کیلئے تعلیم ادارے بھی کھولے جائیں۔انہوں نے بچوں کے والدین سے مطالبہ کیا کہ وہ بھی اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے ہمارا ساتھ دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں