1,188

پشتو فلموں اور سی ڈی ڈراموں نے پشتون ثقافت کا جنازہ نکال دیا

پشتو فلموں اور سی ڈی ڈراموں نے پشتون ثقافت کا جنازہ نکال دیا
نیم عریاں ڈانس ،ڈراموں میں شراب ،چرس اور کلاشنکوپ کلچر کوپشتون کاکلچر دیکھایا جاتا ہے ،بے ہودہ مکالموں اور فحاشی کی وجہ سے یہ ڈرامے دیکھنے کے قابل نہیں بلکہ ملک اور پشتون قوم کی بدنامی ہے۔ عوام نے حکام سے راہ راست پر لانے اور پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرصے سے صوبہ سمیت بریکوٹ کے مختلف علاقوں میں بننے اور چلنے والی سی ڈی ڈراموں اور ٹیلی فلموں میں پشتون ثقافت کی دھجیاں اڑائی جارہیں ،ایک گہری سازش کے تحت فحاشی کو فروغ دیا جارہا ہے کیونکہ ان ڈراموں میں نیم عریاں ڈانس ،شراب نوشی ،چرس اور مار دھاڑ کے سواءکچھ نہیں ہوتا جبکہ بے ہود ہ اور بد اخلاق مکالموں کے ذریعے امن پسند پختونوں کو بدنام کیا جارہا ہے ، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان ڈراموں کے مصنف ہدائیکار اور ادا کار سب ایک سازش کے تحت عالمی سطح پر پختونوں اور پختون ثقافت کو بدنام کررہے ہیں یہ لوگ دنیا کے سامنے پختون جیسے نڈر اور حیا ناک قوم کو جس شکل میں پیش کر رہے ہیں وہ قابل مذمت ہے ۔ تمام اداکارہر ڈرامے اور ٹیلی فلم میں کلاشنکوپ اور پستول کا ایسا استعمال کرتے ہیں کہ بس پختون ےو پیدا ہی اس کے لئے ہے یہ ہماری تباہی اور بربادی کا منصوبہ ہے اور پختون قوم کا مذاق اڑانے کا مترادف ہے ،ڈراموں کے علاوہ تما م ہیروز اور ہیروین بیرون ممالک میں ایسے سٹیج شو کرتے ہیں ایسی حرکات کرتے ہیں جس کا تہذیب اور روایات اجازت نہیں دیتی ، بریکوٹ کے عوام نے ذمہ دار ان اور صوبائی حکومت سے ان ڈراموں اور فلموں کی سکریننگ اور سنسر کرنے اپیل کی ہے اور پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر عریاں، کلاشنکوف کلچر، ڈراموں میں شراب نوشی اور چرس ،مار دھاڑوالے ڈراموںکے خلاف کاروائی کرنے او رکھلے عام بازاروں میں قابل مذمت ،نیم عریاں پوسٹرز لگانے پر مکمل پابندی عائید کی جائے …. بریکوٹ ( ظاہر شاہ کمال )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں