587

چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد صاحب، اورچیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جناب جسٹس وقار احمد سیٹھ صاحب سے سوموٹو ایکشن لینے کا مطالبہ

بریکوٹ ( ظاہر شاہ کمال )آئین پاکستان ہر شہری کو قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر اجتماعات منقعد کرنے اور ایسوسی ایشنز بنانے کا حق دیتی ہے۔ اسی طرح یہ حق پرائیویٹ اداروں میں ٹیچنگ کرنے والے اساتذہ کرام کو بھی حاصل ہے کیونکہ وہ بھی اس ملک کے وفادار شہری ہیں اور اس ملک کی ترقی کے لیے دن رات ایک کرکے لگے ہیں،ان خیلات کا اظہار جے یو ائی تحصیل بریکوٹ کے پریس سیکرٹری اور آل پرائیویٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ترجمان اسرار خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سکولز کے اساتذہ کرام نے اپنا آئینی حق استعمال کرکے آل پرائیویٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے نام سے ایک یونین بنایا ہے۔ تو بہت سے سکولز مالکان نے اس پر سخت تنقید کی ہے اور وہ صاحبان ان اساتذہ کرام کو یا تو ایسوسی ایشن چھوڑنے اور یا نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ کئی اداروں نے تو اساتذہ کرام کو فارع کرکے ان کی جنوری، فروی اور مارچ کی تنخواہیں بھی نہیں دی ہیں۔ آل پرائیویٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن کے ترجمان اسرار خان نے موجودہ صورتحال میں ہم تمام پرائیویٹ ٹیچرز صاحبان معماران قوم کی حیثیت سے چیف جسٹس پاکستان جناب جسٹس گلزار احمد صاحب، بنام چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جناب جسٹس وقار احمد سیٹھ صاحب ،وزیزاعلی خیبر پختون خواہ کی خدمت میں التماس کرتے ہیں کہ ایسے اداروں کے اس غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام کے خلاف سوموٹو لے کر ان کو آئینی اور قانونی سزائیں دلوائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں