208

کو رونا لاک ڈائون کے باعث تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچے مختلف منفی سر گرمیوں میں مبتلا

کو رونا وائرس لاک ڈائون کے باعث تعلیمی ادارے بند ہونے سے بچے مختلف منفی سر گرمیوں میں مبتلا ہونے لگے سکولز کالجز بند ہونے کے ساتھ ہی بچے تعلیم سے غافل ہو کر کھیل کود میں مصروف تعلیمی اداروں کی بندش کا بڑا نقصان بچوں کو ہونے لگا بچے مختلف جرائم کی طرف بڑھنے لگے والدین پریشان اگر تعلیمی ادارے مزید بند رہے تو نوجوان نسل مختلف منفی اثرات لیکر اپنی قیمتی زندگیاں تباہ کر دے گی حکومت پاکستان و آزاد کشمیر دیگر شعبہ زندگی کی طرح تعلیمی اداروں کو بھی کھولنے کا اعلان کرے تا کہ نوجوان نسل کا رشتہ تعلیم سے جڑا رہے اور بچے دوبارہ سے اپنی تعلیمی سر گرمیوں کا آغاز کر سکیں لاک ڈائون ختم کاروبار ٹرانسپورٹ مکمل بحال لیکن تعلیمی ادارے بدستور بند عوامی حلقوں کا حکومتی پالیسی پر حیرت کا اظہار حکومت فوری طور پر تعلیمی اداروں کو کھولنے کا اعلان کرے تاکہ ہماری نوجوان نسل تباہ ہونے سے بچ سکے عوامی حلقوں کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس لاک ڈائون نے تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ وطالبات کی زندگیاں دائو پر لگا دیں سکولز ،کالجز ،یونیورسٹیاں بند ہونے کے ساتھ ہی بچے مختلف منفی روحجان کی طرف بڑھنے لگے تعلیم سے غافل قوم کے معماروں کا مستقبل دائو پر لگنے سے بچوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے سکولز ،کالجز جانے والے بچوں کے قدم مختلف جرائم کی طرف بڑھنے لگے والدین اپنے بچوں کو منفی سر گرمیوں میں ملوث دیکھ کر پریشان ہونے لگے لاک ڈائون نے معاشرے کے نوجوانوں کو تعلیم سے دور کر کے مختلف عزائم کی طرف مائل کرنا شروع کر دیا اگر بروقت تعلیمی اداروں کو نہ کھولا گیا تو نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی عوامی حلقوں نے کورونا وائرس اور لاک ڈائون کی پالیسی مرتب کرنے والوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف کاروبار ،ٹرانسپورٹ جملہ کاروباری سر گرمیاں حکومت نے بحال کر دی ہیں صرف تعلیمی اداروں سے ایسی کیا دشمنی ہے کہ حکومت ہماری نسل نو کو تعلیم سے آراستہ کرنے والے اداروں کو بند کر کے ہماری نوجوان نسل کی زندگیاں تباہ کرنے میں مصروف ہے تعلیمی ادارے بند ہونے کیساتھ ہی نوجوان کھیل کود کی طرف بڑھ گے نوجوان نشئے ،جرائم ،کرائم ،سمگلنگ جیسی مختلف خرابیوں کی طرف بڑھنے لگے حکومتی ادارے خاموش جبکہ والدین نوجوان نسل کو خرابیوں کی طرف جاتے ہوئے دیکھ کر پریشان ہونے لگے عوامی حلقوں نے حکومت پاکستان وآزاد کشمیر سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پربند تعلیمی اداروں کو کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے نوجوان نسل کو تباہ ہونے سے بچائے اگر سرکاری وپرائیویٹ تعلیمی ادارے ،کالجز ،یونیورسٹیاں مزید بند رہیں تو اس کا معاشرے پر بڑا اثر پڑے گا نوجوان ہاتھوں میں کتب اٹھائے سکول ،کالجز جانے کے بجائے منشیات ،جرائم ودیگر منفی سر گرمیوں کی طرف بڑھنا شروع ہو جائیں گے جس کا قوم کو بڑا نقصان ہو گاحکومت وقت جملہ تعلیمی اداروں کو جلد از جلد کھول کر نوجوانوں کو تعلیمی دوستی سے ہمکنار کرے اگر ادارے بند رہے تو تعلیم سے غافل نوجوان تباہی کی طرف بڑھ کر اپنی دنیا آخرت تباہ کر دے گا جس کا خمیازہ اس قوم کو صدیوں بھر بھگتنا پڑے گا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیمی سیکٹر کو کھولنے کا اعلان کرے تاکہ ہمارے بچے اور بچیاں دوبارہ سے تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے اداروں کی بندش کے باعث منفی سر گرمیوں سے بچ سکیں اگر حکومت نے تعلیمی ادارے کھولنے پر بروقت فیصلہ نہ کیا تو ہمارے مستقبل کے معمار تعلیم سے بگڑے ہوئے جاہل کہلائیں گے جس کی سزاء معاشرہ صدیوں بھگتے گا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں